اسلام آباد/راولپنڈی(سب نیوز)راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت نے حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مارکیٹ کی بنیاد پر یومیہ بنیادوں پر ایڈجسٹ کرنے کی پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس پالیسی کے پیچھے موجود حکمت عملی قابلِ فہم ہے، تاہم کاروباری برادری کے بعض اہم تحفظات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا نظام مالیاتی شفافیت اور پائیداری کو فروغ دیتا ہے، مصنوعی قیمتوں کے تعین سے پیدا ہونے والے مالی خسارے اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور سبسڈی کے پوشیدہ بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کی حقیقی عکاسی کرتی ہے، توانائی کے شعبے میں غیر قانونی منافع خوری اور بلیک مارکیٹ کے رجحانات میں کمی لاتی ہے، جبکہ سرحد پار ایندھن کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرکے ملکی محصولات اور ریفائنریوں کی استعدادِ کار کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
عثمان شوکت کے مطابق یہ اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی کو بھی تقویت دیتا ہے کیونکہ مصنوعی طور پر دبائی گئی قیمتوں کے باعث مستقبل میں اچانک بڑے اضافوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
تاہم انہوں نے اس پالیسی پر متعدد تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ بنیادوں پر قیمتوں میں تبدیلی سے ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں کے آپریشنل اخراجات غیر یقینی ہو جائیں گے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے پاس بڑے صنعتی اداروں کی طرح مالی تحفظ یا ہیجنگ کے ذرائع موجود نہیں ہوتے، جس سے ان کے منافع کے مارجن متاثر ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل سے نقل و حمل، توانائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ، عوام کی قوتِ خرید میں کمی اور برآمدی شعبے کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
آر سی سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سرمایہ کاری، طویل المدتی منصوبہ بندی اور کاروباری معاہدوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا، جبکہ اس کے اثرات چھوٹے کاروبار، ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور زرعی شعبے پر زیادہ مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق کھاد، آبپاشی اور دیگر زرعی لاگت میں غیر یقینی صورتحال غذائی تحفظ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت کو پانچ اہم سفارشات بھی پیش کیں۔ ان میں یومیہ کے بجائے پندرہ روزہ بنیادوں پر پہلے سے مقررہ حد (پرائس بینڈ) کے اندر قیمتوں میں ردوبدل، ایس ایم ایز کے لیے ہدفی سبسڈی یا ٹیکس کریڈٹ، ٹرانسپورٹرز کے لیے خودکار فیول سرچارج نظام، ایندھن کی قیمتوں کے تعین کو مانیٹری پالیسی سے ہم آہنگ کرنا اور برآمدی شعبے کے لیے عارضی فیول ٹیکس ریبیٹ متعارف کرانا شامل ہیں۔
بیان کے اختتام پر عثمان شوکت نے کہا کہ راولپنڈی چیمبر اصولی طور پر مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے نظام کی حمایت کرتا ہے، تاہم حکومت کو چاہیے کہ اصلاحات کے دوران پیداواری شعبے، خصوصاً ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کرے تاکہ معاشی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
