اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کی سفارش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی نظامِ انصاف کی بہتری کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری، مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق حل کے لیے قائم کی جائے گی، جو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد قانونی ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ اس عدالت کے قیام سے ثالثی (Arbitration) کے ایوارڈز کے مؤثر نفاذ کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ تجارتی قوانین میں یکسانیت، شفافیت اور پیشگوئی کی صلاحیت کو فروغ ملے گا، جس سے کاروباری برادری کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی، جو پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے تجارتی نظامِ انصاف کو عالمی روایات اور بین الاقوامی بہترین پریکٹس سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ تجارتی تنازعات کا بین الاقوامی معیار کے مطابق بروقت اور مؤثر حل ہی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے، جبکہ معاہدوں پر بروقت عملدرآمد عالمی سرمایہ کاروں کا بنیادی تقاضا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کے لیے آئینی ترمیم اور متعلقہ قانون سازی جلد از جلد مکمل کی جائے۔
عاطف اکرام شیخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف پی سی سی آئی عدالتی اصلاحات اور سرمایہ کاری دوست اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے ایک مؤثر، شفاف اور عالمی معیار کے تجارتی عدالتی نظام کا قیام ناگزیر ہے۔
