اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان کی برآمدی معیشت ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جائزہ رپورٹ نے کئی اہم معاملات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ وہ نکات ہیں جن پر بروقت اور مثر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو مستقبل میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے تحت پاکستانی برآمدات، خصوصا ٹیکسٹائل، گارمنٹس، چمڑے، کھیلوں کے سامان اور دیگر مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی اور بڑی حد تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے۔یہی سہولت پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور ملکی زرمبادلہ میں اضافے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کی رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی اور مطلوبہ اصلاحات بروقت نافذ نہ ہو سکیں تو پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں برآمدات پر اضافی ڈیوٹیز عائد ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا، جس سے پاکستانی مصنوعات کی لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
تاجر اور برآمد کنندگان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت یورپی یونین کی رپورٹ میں شامل سفارشات اور تحفظات کا تفصیلی جائزہ لے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل بھی ہو اور برآمدی شعبے کا اعتماد بھی بحال رہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان پہلے ہی اقتصادی دبا، محدود زرمبادلہ کے ذخائر اور برآمدات بڑھانے کے چیلنج سے دوچار ہے۔ ایسے میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا برقرار رہنا نہ صرف برآمد کنندگان بلکہ مجموعی قومی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ان کے مطابق اگر اس سہولت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صنعتی پیداوار، روزگار اور زرمبادلہ کی آمد پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
کاروباری برادری کا مقف ہے کہ حکومت کو یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے تمام ضروری قانونی، انتظامی اور پالیسی اقدامات بروقت مکمل کرنے چاہییں تاکہ پاکستان جی ایس پی پلس کی سہولت سے مسلسل مستفید ہوتا رہے۔ان کا کہنا ہے کہ برآمدی شعبہ پہلے ہی توانائی کی بلند لاگت، پیداواری اخراجات اور عالمی معاشی سست روی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے مزید غیر یقینی صورتحال سے بچنا ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یورپی یونین کی رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے امور پر مثر پیشرفت یقینی بناتی ہے تو نہ صرف جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا، برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا اور ملکی معیشت کو درپیش دبا میں کمی لانے میں بھی معاونت ملے گی۔
