اسلام آباد (سب نیوز)ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 8جولائی کو پاکستان نے امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا،تمام فریق ہر ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو،امن اور باہمی احترام کے حصول کیلئے اسلام آباد ایم او یو موجود ہے،توقع ہے کہ فریقین مذاکرات اور سفارتکاری سے تنازع کا حل تلاش کریں گے۔
ترجمان طاہر اندرابی کا کہناتھا کہ توقع ہے آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال جلد بحال ہو گی،آبنائے ہرمز کی صورتحال کا پوری دنیا پر اثر پڑ رہا ہے،پاکستان اہم ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے،10 جولائی کو وزیراعظم کی امیر قطر کے ساتھ اہم گفتگو ہوئی،وزیراعظم نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں ضبط و تحمل پر زور دیا،ایرانی صدر نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا،امن و استحکام کا عزم دہرایا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور پرتگال کے درمیان اسلام آباد میں دوطرفہ بات چیت کا دورہ ہوا،پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 پر عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی،قرارداد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق ہے،پاکستان 22 برس سے ہتھیاروں کے پھیلاو سے متعلق ذمہ داری پوری کررہا ہے،پاکستان اوسط ہر 3 برس بعد ہتھیاروں کے بارے رپورٹ پیش کرتا ہے،ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھا کہ پاکستان برطانیہ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی مذمت کرتا ہے،برطانیہ میں پیش آنے والا معاملہ برطانوی حکومت کا اندرونی معاملہ ہے،پاکستان کا برطانیہ میں رونما ہونے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں،حریت قیادت کیخلاف دہائیوں پرانے واقعے پر چارج شیٹ قابل مذمت ہے،بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو بنیادی حق خود ارادیت سے محروم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ ظاہر کرتی ہے بھارتی ادارے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں،بھارتی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی تسلیم شدہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے،پاکستان کو پہلگام واقعہ سے نتھی کرنے کی کوششیں بے بنیاد ہیں،بھارت آج تک پہلگام واقعہ کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کر پایا،پاکستان کے مطالبے کے باوجود بھارت غیرجانبدارانہ تحقیقات سے گریزاں ہے،حقیقت سامنے لانے کے بجائے بھارت میڈیا پر سنسنی خیزی میں مصروف ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی دی جاتی ہے، امریکا اور ایران میں ثالثی ایک چیلنج ہے، قیام امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا،منطقی طور پر اسلام آباد ایم او یو قائم ہے، اسلام آباد ایم او یو قیام امن کیلئے بات چیت کا فریم ورک فراہم کرتی ہے،تنازع کے دوران مختلف مراحل پر بھی پاکستان کا مقف یکساں رہا،پاکستان تمام ممالک کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے،پاکستان ہمیشہ ڈائیلاگ، امن اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے،فریقین نے جب بھی بات چیت کا فیصلہ کیا اسلام آباد ایم او یو اور پاک قطر مشترکہ بیان بنیاد ہوگا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان کوئی آئس بریک نہیں ہوئی،دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنے تک کوئی آئس بریک نہیں ہوسکتی،ایس سی او کا رکن بننے کیلئے افغانستان کے دیگر ارکان سے سفارتی تعلقات ہونے چاہئیں،پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتا ہے،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں پر عملدرآمد کا عزم رکھتا ہے۔بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے،بلوچستان میں پاکستانیوں کی شہادت پر بھارتی میڈیا پر قہقہے اور تالیاں دکھائی دیتی ہیں،پاکستان نے سفارتی ذرائع سے جاپان کو تشویش سے آگاہ کیا،ڈیمارش بھی کیا،بھارت جاپان وسمیت دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ بیان میں ایسے ریمارکس شامل کرواتا ہے،پاکستان جاپان کے ساتھ روابط برقرار رکھے گا، انسداد دہشت گردی پر سلامتی کونسل کمیٹی کی بات چیت بند کمروں میں ہوتی ہے۔
انسداد دہشت گردی کمیٹیوں کا مخصوص مینڈیٹ ہے،سلامتی کونسل کے مستقل اراکین سمیت کئی ممالک بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دے چکے،پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی رابطے موجود ہیں،صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں ہے،وزارت انسانی حقوق کو یرغمالی پاکستانیوں پر فوکل پوائنٹ بنایا گیا ہے،اغوا شدہ جہاز صومالیہ میں رجسٹرڈ ہے،یرغمالیوں ایک پنٹ لینڈ میں ہیں،پاکستان یرغمالیوں کی رہائی کیلئے کثیرالجہتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔وزارت خارجہ نے ہمیشہ آڈٹ حکام سے تعاون کیا، مالی بے ضابطگیوں کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ نظام کام کر رہا ہے،آڈٹ پیراز کا معاملہ حل ہونے تک پینشن اور واجبات کلئیر نہیں ہوتے،کیوبا میں پاکستانی سفارت کار کو ریکوری کے لئے نوٹس دیا جا چکا،اپیل کے تمام فورمز ختم ہونے پر کیوبا میں پاکستانی سفارت کار سے ریکوری ہو گی۔
مشرقِ وسطی میں امن کیلئے سفارت کاری ہی واحد راستہ ،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بنیاد ہے، ترجمان دفتر خارجہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
