لندن: (آئی پی ایس) امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل تیسرے روز جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت میں منگل کو تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ روز اس میں 9.6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودے 84.91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو گزشتہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد بڑھ چکی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر مسلسل تیسرے روز حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں دو آئل سپر ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بحری گزرگاہ کے “تحفظ” کے نام پر فیس وصول کی جائے گی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے عالمی تیل کی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارت پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔اگرچہ امریکی محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی مدد سے تیل کی ترسیل جاری ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ کشیدگی کم نہ ہوئی تو عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
