تحریر:نوید احمد
پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں۔ اسلام اکثریتی مذہب ہے، جبکہ عیسائیت، ہندو مت اور سکھ مت سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اقلیتوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہت سے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی کا بھی سامنا ہے، جو معاشرے پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات یہ مذہبی شناخت کے تحت اتحاد کا باعث بنتی ہے، لیکن زیادہ تر معاملات میں اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں اور یہ معاشرے میں مختلف مسائل کو جنم دیتی ہے۔
آج میں پاکستان کے مدارس میں موجود عسکریت پسندی اور بعض دیگر سنگین مسائل پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ مدارس پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی ترقی مختلف سیاسی عوامل سے بھی جڑی رہی ہے۔ یہ مدارس مختلف مذہبی مکاتبِ فکر کے زیرِ انتظام چلائے جاتے ہیں۔
ہم اکثر مختلف مذہبی تنظیموں اور نمایاں مذہبی رہنماؤں کو ایل جی بی ٹی کیو برادری اور ہم جنس پرستی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے ہی بعض مدارس میں ہونے والے مبینہ واقعات سے چشم پوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض اساتذہ بچوں، حتیٰ کہ کم عمر بچوں، کے ساتھ جنسی استحصال میں ملوث ہوتے ہیں۔ جو بچے انکار کرتے ہیں، انہیں الگ طریقے سے نشانہ بنایا جاتا ہے، جن میں جسمانی تشدد، بھوکا رکھنا، یا مختلف سزاؤں کے ذریعے انہیں سبق سکھانے اور ان کی مرضی کے خلاف ایسے اعمال پر مجبور کرنے جیسے رویے شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ تحریر لکھنے کا مقصد ان افراد کو آئینہ دکھانا اور ایک سوال اٹھانا ہے۔ اگر بعض مدارس میں کسی فرد کی مرضی کے خلاف ایسے اعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ باہمی رضامندی اور دل کی گہرائی سے قائم ہونے والے بالغ افراد کے تعلقات کی مذمت کرتے ہیں، تو پھر یہ تضاد کس طرح ایل جی بی ٹی برادری کے خلاف پیش کیے جانے والے بیانیے کی حمایت کرتا ہے؟
