اسلام آباد :(آئی پی ایس) سپریم کورٹ کا حصولِ اراضی کیس میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں”۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے شہریوں سے زمین لینے کے حوالے سے تاریخی فیصلہ جاری کیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبر پختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بالکل درست قرار دے دیا ہے اور زمین مالکان کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں زمین کے منصفانہ معاوضے کے لیے درج ذیل اہم ترین قانونی اصول طے کیے گئے ہیں۔
جس میں کہا گیا کہ زمین کی قیمت کا تعین صرف اور صرف سرکاری ریٹ (ڈی سی ریٹ) سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو کو مدنظر رکھنا قانونی طور پر ضروری ہے۔
فیصلے میں کہنا تھا کہ معاوضہ طے کرتے وقت اراضی کے ممکنہ استعمال اور مستقبل کی ترقی و اہمیت کو بھی لازمی طور پر سامنے رکھا جائے، اگر حکومت کی طرف سے اراضی کے حصول میں تاخیر ہو، تو قیمتوں میں ہونے والے اضافے اور افراطِ زر کو بھی دیکھا جائے گا۔
عدالت نے کہا کہ عوامی مفاد میں زمین لینا ریاست کا اختیار ضرور ہے، مگر متاثرہ شہریوں کو منصفانہ اور حقیقی معاوضہ فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری اور شہری کا بنیادی حق ہے۔
عدالت نے اہم ریمارکس دیئے کہ “اراضی کے معاوضے کا اصول ‘سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں’ ہونا چاہیے، متاثرہ مالک کو مکمل مالی انصاف ملنا انتہائی ضروری ہے۔”
خیال رہے مقدمہ صوابی میں ایک نہر منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق تھا، صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری معاوضے کو کم قرار دے کر زمین مالکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
جس پر ریفرنس کورٹ نے تمام شواہد اور مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر زمین مالکان کا معاوضہ بڑھا دیا تھا اور پشاور ہائی کورٹ نے بھی ریفرنس کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
بعد ازاں خیبر پختونخوا حکومت نے اس بڑھے ہوئے معاوضے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جسے عدالتِ عظمیٰ نے تفصیلی فیصلے کے ساتھ یکسر مسترد کر دیا۔
