اسلام آباد (سب نیوز)منی لانڈرنگ کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پرقومی احتساب بیورو(نیب)نے احتساب عدالت نمبر 1، راولپنڈی کی جانب سے عبوری ضبطی کی تصدیق کے بعد کراچی میں واقع بحریہ آئیکون ٹاورز کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے میسرز گلیکسی کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف کی گئی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ بحریہ آئیکون ٹاورز کی تعمیر اور زمین کا حصول غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقم (کرائم کی کمائی)سے کیا گیا تھا اور یہ جائیداد منی لانڈرنگ میں ملوث تھی۔ تحقیقات کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد کی بنیاد پر، نیب نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 8 کے تحت بحریہ آئیکون ٹاورز کو عارضی طور پر ضبط کر لیا تھا۔

منی لانڈرنگ کے جرم اور جائیداد کا غیر قانونی رقم سے تعلق ثابت کرنے والے مزید شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، عبوری ضبطی کی تصدیق کے لیے احتساب عدالت نمبر 1، راولپنڈی میں درخواست دائر کی گئی۔ معزز عدالت نے 3 جولائی 2026 کے اپنے حکم نامے کے ذریعے جائیداد کی عبوری ضبطی کی توثیق کر دی۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے، نیب نے آج تقریبا 100 ارب روپے مالیت کی اس عمارت کا جسمانی قبضہ حاصل کر لیا ہے اور قانون کے مطابق اس کی تحویل اور انتظام مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔بحریہ آئیکون ٹاورز پاکستان کے نمایاں ترین ہائی رائز پروجیکٹس میں سے ایک ہے اور اسے ملک کی سب سے اونچی عمارت سمجھا جاتا ہے۔ اس اہم پراپرٹی کی ضبطی اور قبضہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ اثاثوں کی نشاندہی، ان کی روک تھام اور بازیابی کی نیب کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
