اسلام آباد(سب نیوز)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے قومی اقتصادی سروے 2025-26 میں حکومتی معاشی اہداف پورے نہ ہونے کو حکومت کی نااہلی، ناقص معاشی منصوبہ بندی اور کمزور پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی دعوں اور زمینی حقائق میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔معیشت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیاور معیشت میں کوئی استحکام نہیں آیا اگر استحکام آیا ہوتا تو عام آدمی کی زندگیوں پر اس کا مثبت اثر پڑتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔اقتصادی سروے رپورٹ پر ردعمل میں کاشف چوہدری نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال میں زراعت سمیت متعدد اہم شعبوں کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
زرعی شعبے کی نمو ہدف سے نمایاں کم رہی جو انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ زراعت ملکی معیشت، روزگار اور برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسان آج بھی مہنگی بجلی، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر پیداواری لاگت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔کاشف چوہدری نے کہا کہ اگرچہ حکومت جی ڈی پی گروتھ اور بعض شعبوں میں بہتری کے دعوے کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تقریبا بارہ کروڑ افراد کی قوت خرید مزید کم ہو چکی ہے، کاروباری سرگرمیاں دبا کا شکار ہیں اور عام آدمی کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے اور لوگوں کو اپنی زندگیوں سے ناطہ برقرار رکھنا مشکل۔ہو۔گیا ہے۔ عوام کے لیے معیشت کی اصل پیمائش ان کی آمدن، روزگار اور قوت خرید ہوتی ہے نہ کہ صرف سرکاری اعداد و شمارجو الفاظ کے ہیر پھیر کے سوا کچھ نہیں ہوتےانہوں نے کہا کہ بجلی، گیس ودیگر شعبوں میں منفی نمو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ مہنگی توانائی نے صنعت، تجارت اور زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ نجی شعبے کی شرح نمو بھی مقررہ ہدف سے کم رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کاروباری برادری کا اعتماد ابھی تک بحال نہیں ہو سکا۔
صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے کہا کہ حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ سال کے دوران سیلاب، علاقائی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز موجود تھے مگر سوال یہ ہے کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے کیا مثر حکمت عملی اختیار کی گئی؟ اگر پالیسی سازی درست ہوتی تو ان چیلنجز کے اثرات کو کم کیا جا سکتا تھاانہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ، بھاری ٹیکسز، مہنگی یوٹیلٹیز، سستے قرضوں کی عدم دستیابی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہیحکومت کو توانائی کی قیمتوں میں کمی، آسان اور سادہ ٹیکس نظام، کاروبار دوست اصلاحات، سستے قرضوں کی فراہمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ صرف معاشی اعداد و شمار پیش کرنے سے عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں جب تک عوام کی آمدن میں حقیقی اضافہ، روزگار کے نئے مواقع، کاروباری آسانیاں اور مہنگائی میں واضح کمی نہیں آتی اس وقت تک معاشی ترقی کے دعوے عام آدمی کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیانہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت معاشی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے تاجروں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کسانوں کو اعتماد میں لے کر ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کا باعث بن سکیں_

