بشکیک(آئی پی ایس )وفاقی وزئر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان شنگھائی اسپرٹ پر کاربند رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ اور پبلک سیکیورٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شنگھائی اسپرٹ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے خطے کو درپیش دہشتگردی، منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر کرائم اور دہشتگردی کی مالی معاونت (ٹیلر فنانسنگ) جیسے سنگین اور باہم جڑے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے مابین ایک جامع اور مشترکہ علاقائی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ مجرمانہ اور دہشتگرد نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن نیٹ ورکس اور کرپٹو کرنسی کے لین دین کا سہارا لے کر اپنی سرگرمیاں تیزی سے پھیلا رہے ہیں،
جس کے سدِباب کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان باہمی اعتماد، برابری، تعاون اور خودمختاری کے احترام پر مبنی شنگھائی روح کے اصولوں پر مکمل عمل پیرا ہے۔دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی لازوال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں انٹیلیجنس کوآرڈینیشن، بارڈر مینجمنٹ اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو انتہائی مضبوط بنایا گیا ہے۔
انہوں نے تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشتگردی ڈھانچے (آر اے ٹی ایس) کے تحت مثر تعاون، سائبر انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل فارنسک میں شراکت داری بڑھانے کا مطالبہ کیا۔منشیات کی اسمگلنگ کو دہشتگردی کی مالی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے سرحدوں کی حفاظت، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور واچ لسٹ کوآرڈینیشن پر زور دیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے تمام شرکا کو سال 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔اس دوران انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے بھی سائیڈ لائن ملاقات کی جس میں پاک ایران تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

