اسلام آباد:(سب نیوز) وفاقی دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں منتخب علاقائی حکومت کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جو اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔ اس عہدے کا نام وزیراعلیٰ یا میئر رکھا جا سکتا ہے۔
اصلاحاتی رپورٹ میں امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ متعدد انتظامی اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اور دیگر وفاقی اداروں کے کئی اختیارات بھی مجوزہ آئی سی ٹی حکومت کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق “اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ” متعارف کرانے اور بلدیاتی و ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
138 صفحات پر مشتمل اصلاحاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں اسلام آباد کے لیے مالی اور انتظامی خودمختاری کا ماڈل تجویز کیا گیا ہے۔ مقامی ٹیکسوں اور وسائل کی تقسیم کے لیے الگ مالیاتی کمیٹی قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اختیارات کی منتقلی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی ٹرانزیشن کمیٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کو جدید “اسمارٹ سٹی” میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس سمیت مختلف شعبوں کے لیے 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور عوامی شکایات کے نظام کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں “ڈیسٹی نیشن اسلام آباد” حکمتِ عملی کے ذریعے سیاحت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اصلاحاتی ایجنڈے کو “اڑان پاکستان” اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو اسلام آباد کے نظامِ حکمرانی میں تاریخی اور بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئے گی، اور وفاقی دارالحکومت کو جدید، مؤثر اور مکمل ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کا نمونہ بنایا جا سکے گا۔

