اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی غیر ملکی اور دہری شہریت سے متعلق نئے اور سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں جن کا مقصد سرکاری ملازمین کی غیر ملکی وابستگیوں کو شفاف بنانا اور احتساب کے عمل کو مؤثر کرنا ہے۔
نئے قواعد کے تحت تمام سول سرونٹس اپنی، اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری افسران کو اپنے پاسپورٹس اور دیگر غیر ملکی دستاویزات و وابستگیوں کی تفصیلات بھی ظاہر کرنا ہوں گی۔
نئے ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سول سرونٹ پیشگی اجازت کے بغیر غیر ملکی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اگر کوئی افسر اپنی غیر ملکی شہریت یا وابستگی کو ظاہر کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نئے قواعد کے مطابق غیر ملکی شہریت کو چھپانا ’’مس کنڈکٹ‘‘ تصور کیا جائے گا جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے یا حقائق کو پوشیدہ رکھنے والے افسران کی ملازمت ختم کرنے تک کی کارروائی کی جا سکے گی۔
اس حوالے سے ’’سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026‘‘ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

