Tuesday, June 2, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ تریناٹلی نے پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے اپنے دروازے مزید کھول دیے

اٹلی نے پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے اپنے دروازے مزید کھول دیے

اسلام آباد(سب نیوز) اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اٹلی کی سفیر محترمہ مارلینا آرمیلین نے اٹلی کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 2026 میں اٹلی جمہوریہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ یہ دن 2 جون 1946 کے تاریخی ریفرنڈم کی یاد دلاتا ہے، جس میں اطالوی عوام نے بادشاہت کے بجائے جمہوری نظام کا انتخاب کیا تھا۔ یہ اٹلی کی تاریخ کا پہلا قومی انتخاب بھی تھا جس میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا۔

سفیر آرمیلین نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ پاکستان میں تعینات ہونے والی اٹلی کی پہلی خاتون سفیر ہیں۔ اٹلی نے پاکستان کو اس کے قیام کے فوراً بعد تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان 1948 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے تعلقات ہجرت، تجارت، ثقافت، سائنس، ترقیاتی تعاون، کثیرالجہتی سفارت کاری، دفاع اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں تک وسیع ہو چکے ہیں۔ یہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ معاشی مفادات، یکساں سماجی و اخلاقی اقدار اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔

سفیر نے کہا کہ 2025 میں دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرلز کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کے چھٹے اجلاس کے بعد تعلقات مزید منظم، شعبہ جاتی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار ہوئے ہیں۔ اٹلی پاکستان کو خطے کے استحکام کے لیے ایک ناگزیر شراکت دار سمجھتا ہے اور اقتصادی سفارت کاری، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا حامی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی پاکستان کے اس کردار کو سراہتا ہے جس کے تحت وہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سفیر آرمیلین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اصلاحات، بالخصوص ’’یونائٹنگ فار کنسینسس‘‘ گروپ کے تحت، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تعاون جاری ہے۔ اسی طرح اٹلی۔پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے قیام سے پارلیمانی روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ عدالتی نظاموں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے بھی ابتدائی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہجرت اور افرادی قوت کی نقل و حرکت دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ اٹلی میں یورپی یونین کے اندر پاکستانی نژاد افراد کی سب سے بڑی برادری آباد ہے۔ مئی 2025 میں اطالوی وزیر داخلہ ماتّیو پیانتیڈوسی کے دورۂ پاکستان کے دوران ہجرت اور لیبر موبلٹی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جبکہ سرحد پار منظم جرائم کے انسداد کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اٹلی نے 2026 سے 2028 کے دوران پہلی مرتبہ پاکستانی شہریوں کے لیے ملازمت کی پیشکش رکھنے والے افراد کے لیے 10,500 خصوصی ورک پرمٹس مختص کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’اسکل پاسپورٹ‘‘ فریم ورک پر بھی کام جاری ہے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کی پیشہ ورانہ اور لسانی مہارتوں کو اطالوی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے، خاص طور پر صحت، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید انجینئرنگ کے شعبوں میں۔

سفیر نے کہا کہ 2023 میں اسلام آباد میں اطالوی تجارتی ایجنسی کے دفتر کے قیام سے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے اپریل 2026 میں منعقدہ یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس سہولت کے باعث پاکستان کو اٹلی کے ساتھ تجارت میں نمایاں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے اطالوی تجارتی نمائشوں میں پاکستانی کمپنیوں کی زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔

سفیر نے کہا کہ متعدد اطالوی کمپنیاں پاکستان میں صحت، تعمیرات، ڈیزائن، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور فضلہ جات کے انتظام جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کسٹم ڈیوٹیوں میں حالیہ کمی سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور تجارتی تعاون کے مزید فروغ کی توقع ہے۔

تعلیمی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستانی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اٹلی میں نسبتاً کم تعلیمی اخراجات، مختلف وظائف، انگریزی زبان میں بڑھتے ہوئے تعلیمی پروگرامز اور عالمی شہرت یافتہ جامعات طلبہ کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتی ہیں، خصوصاً انجینئرنگ، ڈیزائن، آرکیٹیکچر اور زراعت کے شعبوں میں۔

ثقافتی ورثے کے شعبے میں تعاون کو سراہتے ہوئے سفیر نے کہا کہ 1955 میں پروفیسر جوسیپے توچی کی قیادت میں قائم ہونے والا اطالوی آثارِ قدیمہ مشن پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوستی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ سوات میوزیم، جسے 2014 میں اطالوی اور پاکستانی تعاون سے دوبارہ تعمیر کیا گیا، دونوں ممالک کے مشترکہ ثقافتی عزم کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 میں شروع کیے گئے ’’خیبر پاتھ‘‘ منصوبے کے تحت ثقافتی ورثے کو ماحولیاتی سیاحت اور پائیدار ترقی سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے ثقافتی اثاثوں کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کیا جا سکے۔

ترقیاتی تعاون کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ پاکستان اطالوی ترقیاتی تعاون کے ترجیحی ممالک میں شامل ہے۔ اٹلی اس وقت پاکستان میں تقریباً 169.5 ملین یورو مالیت کے 17 ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن کا مقصد جامع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقی، آبی وسائل کا بہتر انتظام، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ہے۔

انہوں نے ’’اسکیل اپ اولیو کلچر‘‘ پروگرام کو ایک نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ملک کے 60 اضلاع میں 69 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں۔ اس منصوبے نے پاکستان کی پہلی قومی زیتون پالیسی کی تیاری اور نیشنل اولیو آئل کونسل کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سفیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اٹلی اور پاکستان کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے، خاص طور پر 2025 کے تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد، جس سے تقریباً 69 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔ اٹلی پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے میں بھی معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ کاربن اخراج میں کمی اور مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر سفیر مارلینا آرمیلین نے کہا کہ پاکستان میں ان کی مدتِ تعیناتی اس ماہ مکمل ہو رہی ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ اسلام آباد اور کراچی میں اطالوی مشنز دونوں ممالک اور عوام کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا:

“ویوا لا ریپوبلیکا اٹالیانا!”
“پاک۔اٹلی دوستی زندہ باد!”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔