Wednesday, May 27, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومدنیاچپس ٹیکنالوجی میں ہواوے کا بڑا قدم، “تاؤ قانون” نے نئی راہیں کھول دیں

چپس ٹیکنالوجی میں ہواوے کا بڑا قدم، “تاؤ قانون” نے نئی راہیں کھول دیں

بیجنگ :عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت اس وقت”مور قانون” کی عملی رکاوٹوں اور بڑھتی لاگت کے باعث بحران سے دوچار ہے۔ ایسے میں چینی کمپنی ہوا وے نے رواں سال مئی میں باضابطہ طور پر “تاؤ (τ) قانون”​ متعارف کروایا ہے۔ یہ پوسٹ مور دور کے لیے چینی حل پیش کرتا ہے اور عالمی صنعت میں وسیع توجہ اور بحث کو جنم دے رہا ہے۔ یہ چینی جدت طرازی اور کھلے تعاون کے فلسفے پر مبنی ہے، اور عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نئے راستے کھولنے کے ساتھ ساتھ نئی توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔

عام فہم زبان میں مور قانون کا مطلب یہ ہے کہ انٹیگریٹڈ سرکٹس پر موجود ٹرانزسٹرز کی تعداد تقریباً ہر دو سال بعد دگنی ہو جاتی ہے، جس سے چپس کی کارکردگی بھی ہر دو سال میں دگنی ہو جاتی ہے ۔ طویل عرصے سے، عالمی چپس کی ترقی مور قانون کے تابع رہی ہے، اور مروجہ سوچ یہ تھی کہ چپس کے اجزاء کا حجم مسلسل کم کر کے کارکردگی میں اضافہ کیا جائے ۔ لیکن اب یہ راستہ سکڑتا جا رہا ہے: چپس بنانے کے لیے ٹرانزسٹرز کو چھوٹا کرنے کا روایتی طریقہ طبیعاتی حدود اور بڑھتی لاگت کی معاشی حدود دونوں سے ٹکرا چکا ہے۔ چپس پروڈکشن لائن جتنی زیادہ جدید ہوتی ہے اس کی لاگت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، جبکہ تکنیکی رکاوٹیں اس قدر بلند ہو چکی ہیں کہ بیشتر کمپنیاں اور ممالک اس میدان تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے ۔ مزید برآں، مصنوعی تکنیکی رکاوٹوں کے باعث عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین بھی بتدریج متاثر ہو رہی ہے، جس سے پوری صنعت کی ترقی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی پس منظر میں، ہوا وے کا تاؤ قانون روایتی سوچ سے ہٹ کر سامنے آیا ہے۔ یہ قانون اب چپس کے اجزاء کو مزید چھوٹا کرنے پر زور دینے کے بجائے مجموعی ڈھانچے اور کارکردگی کی سطح پر چپس کی صلاحیت بڑھانے کی وکالت کرتا ہے۔ اس نئے راستے میں انتہائی مہنگے آلات اور جدید ترین مینوفیکچرنگ پراسیسز پر انحصار ضروری نہیں، بلکہ موجودہ پختہ صنعتی وسائل سے بھی بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید کمپنیاں اور خطے اعلیٰ درجے کی چپس کی ترقی میں حصہ لے سکتے ہیں، اور یہ صنعت اب چند بڑے کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہے گی۔سائنسی ترقی کا راستہ صرف ایک نہیں ہونا چاہیے؛ مختلف تکنیکی راستوں کا متوازی جائزہ ہی پوری صنعت میں توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ تاؤ قانون کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہ کھلے پن، عملی اور سب کے لیے فائدہ مند ترقی کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ ای یو وی لیتھوگرافی مشینوں جیسے نایاب آلات پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ عالمی سطح پر موجود پختہ مینوفیکچرنگ صلاحیت سے پوری طرح استفادہ کرتا ہے، تاکہ مزید ممالک اور کمپنیاں بھاری سرمایہ کاری کیے بغیر اعلیٰ درجے کی چپس کی تحقیق و ترقی میں حصہ لے سکیں اور چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری توڑ سکیں۔

گزشتہ چھ برسوں میں، ہواوے نے تاؤ قانون کی بنیاد پر 381 قسم کی چپس تیار کی ہیں، جن کا استعمال مصنوعی ذہانت، آٹوموبائل اور دیگر صنعتی شعبوں میں کیا جا رہا ہے، جو اس راستے کے قابلِ عمل ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ امید ہے کہ 2031 تک، اس کے اعلیٰ درجے کی چپس میں ٹرانزسٹر کی کثافت 1.4 نینومیٹر کے برابر ہو جائے گی، جو عالمی صنعت کو کم لاگت اور پائیدار ترقی کا متبادل انتخاب فراہم کرے گا۔موجودہ دور میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ کاروں کی صنعتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، اور پوری دنیا میں چپس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پوری انسانیت کا مشترکہ موقع اور چیلنج ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے عالمی سپلائی چین کا باہم مربوط ہونا ناگزیر ہے۔ صف آرائی اور ناکہ بندی ترقی کی رفتار کو سست کرے گی، جبکہ کھلا تعاون اور باہمی صلاحیتوں سے استفادہ ہی پائیدار ترقی کی حقیقی راہ ہے۔ تاؤ قانون کی آمد، چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ترقی کے فلسفے کا عکس ہے۔

بیرونی دباؤ کے باوجود خود انحصاری اور اپنی راہ متعین کرنے پر قائم رہنا، عالمی شراکت داروں کے ساتھ کھلے پن، رواداری اور باہمی فائدے کے اصولوں کو برقرار رکھنا، اور جدت طرازی کے نتائج کے ذریعے دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے مشترکہ ترقی کا پل بنانا اسی فلسفے کا حصہ ہے۔ٹیکنالوجی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور جدت کے نتائج کا فائدہ پوری دنیا کو ملنا چاہیے۔ آج چپس کی صنعت تبدیلی کے اہم موڑ پر کھڑی ہے، اور لوگ توقع رکھتے ہیں کہ متعلقہ صنعتی حلقے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر عملی تعاون کو فروغ دیں گے۔ چین کو یقین ہے کہ متنوع ٹیکنالوجی کی تلاش اور کھلے تعاون کا ماحول آخرکار چپس ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام صنعتوں میں فائدہ پہنچائے گا اور عالمی ڈیجیٹل صنعت کی مستحکم ترقی میں مدد دے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔