اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان میں پولینڈ کے سفیر ماچے پریسارسکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی تعاون سے زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ،ہمارا تجربہ ہے کہ ایک ملک خطے سے علیحدہ ہو کر بہتر مستفید نہیں ہو سکتا،ہم پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں،پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسائل ضرور ہیںتاہم مشرق وسطی کی طرح پاک بھارت تعلقات کو مذاکرات کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ وہ گزشتہ روز نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کر رہے تھے ۔
پولش سفیرنے امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات بہترین حل ہے، ایران امریکہ مسئلہ حل ہونے کی قوی امید ہے، یہ مسئلہ حل ہونے کی صورت میںسے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے بہتر ہوگا،کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کی آزادی کا احترام کرنا لازم ہے،روس کا یوکرائن پر حملہ نا جائز تھاجس کے عالمی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،پاکستان اور پولینڈ کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، سفارت کاری اور میڈیا کا کردار قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم ہے ،پولش سفارت خانے کا صحافیوں سے گہرا تعلق ہے،پولینڈ کے وزیر خارجہ گذشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے تھے ،جہاں انکی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار سے نہایت خوشگوار ماحول میںبہت مفید ملاقاتیں ہوئیں،ان ملاقاتوں سے پولش پاک تعلقات میں مزید استحکام کا موقع ملا،پولش وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان میں بیلاروس کی سرحدوں سے غیرقانونی تارکین وطن کی یورپ نقل و حرکت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا،اس حوالے سے ہم نے پاکستان سے کھلے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے ،جی ایس پی پلس کا مقصد یورپی میڈیسن تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو بہتر بنانا ہے ،اس کا مقصد یورپی یونین کی جانب سے پاکستان سے اپنے حق میں بہتر کام کرانا نہیں ہے ،بلکہ اس کا مقصد عوام کا فائدہ اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے ،جی ایس پی پلس کو پاکستان اپنے برامدات بہتر بنانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے ،دورے کے بعد فالو اپ کے طور پر دونوں وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون رابطہ بھی کیا،خطے میں امن و استحکام پاکستان اور دنیا کیلئے اہم ہے،پولش وزیر خارجہ کے دورے میں باہمی سیاسی مشاورت کا نیا باب کھلا، وزیر داخلہ محسن نقوی کی غیر قانونی تارکین وطن، انسداد منشیات و قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون پر بامقصد ملاقاتیں ہوئیں،پولش پاکستان تجارت تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے
پاکستان اور پولینڈ ے درمیان تجارتی حجم1 اعشاریہ3 ارب ڈالر ہے جس میں سے 1 اعشاریہ2ارب ڈالر پاکستانی برآمدات ہیں،جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے، ٹیکنالوجی، انتظام، آئی ٹی شعبوں میں دونوں ممالک میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے ،سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بہت سے منصوبے کارڈز پر ہیں،متعدد پولش کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔سیاحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماچے پریسارسکی نے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے پولش سیاحوں کے لیے اہم جگہ ہے ،پاکستان کوہ پیمائی کے حوالے سے بھی پولش سیاحوں کے لیے اہم ہے ،کے ٹو سر کرنے والی پہلی خاتون پولش تھی ،اس پولش خاتون نے 1986 میں کے ٹو سر کی، ہر سال ہزاروں پولش سیاح پاکستان کے نادرن ایریا کی سیر کو آتے ہیں،پولینڈ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات انتہائی اہم ہیں،پاکستانی ایئر فورس کو نکھارنے میں پولش پائلٹس کا اہم کردار ہے،کرونا وبا سے ان میں تھوڑا تعطل آیا تاہم ہم ان کی بحالی پر کام کر رہے ہیں، پاکستانی اسٹوڈنٹس کیلئے پولش یونیورسٹیز میں تعلیمی سہولیات میسر ہیں، پولش یونیوسٹیز میں یورپ کی نسب اخراجات بہت کم ہیں تاہم تعلیمی معیار یورپ کے دیگر ممالک کے ہم پلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا امریکہ ایران تنازع میں ثالثی کا کردار اہم ہے ،ہم پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہیںچند ہی ممالک ایسے ہیں جن کا تنازع کے دونوں فریقین سے تعلقات ہیںیہ دونوں فریقین کی جانب سے اعتماد کی عکاسی ہے ،تحفظات کے باوجود دونوں فریقین کا اعتماد خوش آئند ہے ،ہم ان مذاکرات کا کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیںکیونکہ قیام امن انتہائی اہم ہے،پولش سرحدوں پر پہلے ہی یوکرین کا تنازع ہے ،روس نے یوکرین کے خلاف جارحیت کر رکھی ہے ،ہم مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازع کے حل میں استعمال کرنے کی سپورٹ کرتے ہیں،روسی سفیر کی پریس کانفرنس کی رپورٹ دیکھی ہے ،یوکرین کے مسئلے کو اقوام متحدہ قراردادوں، ملکی سالمیت و خودمختاری کے اصولوں کے تحت حل ہونا چاہے ،یہ صرف یورپی ہی نہیں بلکہ انسانی اقدار ہیں۔پولش سفیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی تعاون سے زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ،ہمارا تجربہ ہے کہ ایک ملک کٹ کر خطے سے بہتر مستفید نہیں ہو سکتا،ہم پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیںپاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایشوز موجود ہیں،مشرق وسطی کی طرح پاک بھارت تعلقات کو مذاکرات سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

