ہومپاکستانغیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوااور زیادتی کا کیس ، باس نامی پراسرار کردار کی شناخت سامنے آگئی

غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوااور زیادتی کا کیس ، باس نامی پراسرار کردار کی شناخت سامنے آگئی

لاہور (سب نیوز) غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا ہے کہ مقدمے میں باس کے نام سے سامنے آنے والے پراسرار کردار کا اصل نام وحید ہے، جو اوکاڑہ کا رہائشی ہے اور اسکے خلاف آٹھ مقدمات درج ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ یکم جولائی کو پولیس کو ہیلپ لائن پر اس کیس سے متعلق اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کیس میں نامزد چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں دیگر ملزمان کو بھی ٹریس کر کے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اب تک اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فیصل کامران نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے پولیس نے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا جب کہ متاثرہ خواتین میں شامل ایک خاتون وینزویلا کی شہری ہے، جس کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق متاثرہ خواتین کی سہولت اور اعتماد کے لیے خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے مرحلے پر کچھ دشواری پیش آئی، تاہم سفارت خانے کے حکام سے ہونے والی تمام گفتگو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک روز مزید لاہور میں قیام پر آمادہ کیا گیا، جس کے بعد اگلے روز انہیں عدالت میں پیش کر کے دفعہ 164 کے تحت ان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بعد ازاں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی۔واضح رہے کہ خواتین نے اپنے بیانات میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم رضا ڈار نے انہیں دھمکانے کے لیے باس نامی شخص کو موقع پر بلایا تھا جو اپنے گن مینوں کے ساتھ موقع پر پہنچا تھا اور اسی نے قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے بیانات میں جس شخص کو باس کہا گیا تھا، اس کا اصل نام وحید ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب متاثرہ خواتین کو وحید کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور تصویر دیکھتے ہی چیخ و پکار شروع کردی۔انہوں نے بتایا کہ اب تک اس مقدمے میں آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ باس کے نام سے سامنے آنے والے کردار وحید کے خلاف پہلے سے آٹھ مقدمات درج ہیں۔فیصل کامران کا کہنا تھا کہ جب کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار کسی مقدمے میں ملوث ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ ایک ملزم ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو اعلی حکام سے رابطہ کرنے پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جس کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ اس مقدمے کے حوالے سے وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش اور کارروائی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کسی جج کے گھر پر چھاپہ مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق جج کے گھر جانے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز اور صحافیوں کے درمیان کچھ نوک جھونک بھی ہوئی۔ صحافیوں کی جانب سے جج کے گھر پر چھاپے اور رضا ڈار سے متعلق سخت سوالات پر ڈی آئی جی فیصل کامران پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں 2 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کی شکایت کی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار ڈچ شہری اسٹیفنی ایڈریانا نے مقف اختیار کیا تھا کہ ان کی رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا۔تفتیشی حکام کے مطابق متاثرہ خواتین میں ایک نیدرلینڈ اور دوسری وینزویلا کی شہری ہیں، جو 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں اور اسی روز انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد کی جانب سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی کال کے بعد دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔