اسلام آباد (آئی پی ایس): ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جو 3 بجے سنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران پراسیکیوشن اور مقتولہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی نے حتمی دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن نے کیس کو ثابت کرنے کے لیے 27 گواہان کو عدالت میں پیش کیا۔
سرکاری وکیل نے اہم ترین شواہد عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ قتل کے اگلے ہی دن ملزم عمر حیات کو گرفتار کر کے اس کی قانونی شناخت پریڈ کروائی گئی تھی۔
پمز اسپتال کے ڈاکٹر نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کروایا جس نے مقتولہ کا میڈیکل تیار کیا تھا، ڈاکٹرز کے بیانات سے واضح ہے کہ ثنا یوسف کو شدید نوعیت کے زخم آئے، فائرنگ واضح طور پر قتل کے ارادے سے کی گئی تھی، جس کی گولی لگنے سے ثنا کے دل اور پھیپھڑے شدید متاثر ہوئے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ مقتولہ ثنا یوسف کے موبائل فون سے ملزم عمر حیات کا نمبر ملا جسے تفتیشی افسر نے برآمد کیا تھا، اور بعد میں مال خانے میں ثنا کے والد نے اس موبائل کی شناخت کی. تفتیشی افسر نے موبائل چیٹ اور لوکیشن کی تفصیلات حاصل کیں تو وہ ملزم عمر حیات کی نکلیں۔ ملزم کی ثنا یوسف کے ساتھ موبائل چیٹ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور اس مشہور انفلوئنسر کے قتل کے تمام ڈیجیٹل و میڈیکل حقائق عدالت کے سامنے آ چکے ہیں۔
سماعت کے دوران مقتولہ کے وکیل سردار قدیر نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ جرم پوری طرح ثابت ہو چکا ہے، لہذا ملزم عمر حیات کو دو مرتبہ موت کی سزا سنائی جائے۔
حتمی دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کیا اور ملزم کو ہدایت کی کہ وہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل اپنے وکیل کو عدالت میں پیش کرے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے تمام فریقین کے دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور اعلان کیا کہ عدالت اس کیس کا حتمی فیصلہ آج دوپہر3 بجے سنائے گی۔
