Sunday, May 10, 2026
ہومتازہ ترینمسلمان میرے بھائی ہیں، مذہب کارڈ نہیں چلنے دوں گا،جوزف وجے نے تامل ناڈو کی وزارتِ اعلی کا حلف اٹھالیا

مسلمان میرے بھائی ہیں، مذہب کارڈ نہیں چلنے دوں گا،جوزف وجے نے تامل ناڈو کی وزارتِ اعلی کا حلف اٹھالیا

چنئی (آئی پی ایس )بھارت کے معروف اداکار اور سیاسی جماعت تاملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے)کے سربراہ جوزف وجے نے اتوار کے روز تامل ناڈو کے وزیراعلی کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وزارتِ اعلی کا عہدہ سنبھالتے ہی جوزف وجے نے تین بڑے فیصلوں کی منظوری دے دی ہے جب کہ اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اور بی جی پی کی ہندوتوا پالیسی پر سخت تنقید کی۔بھارتی میڈیا کے مطابق تامل فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار 51 سالہ جوزف وجے نے اتوار کو ریاست تامل ناڈو کے 17ویں وزیراعلی کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔وجے کی پارٹی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ تامل سینما کے سب سے مہنگے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور 65 سے زائد فلموں میں کام کرچکے ہیں۔

چنئی کے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں ان کے والدین، ساتھی اداکاروں اور کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔حلف اٹھانے کے فوری بعد جوزف وجے نے تین بڑے فیصلوں پر مبنی سرکاری دستاویزات پر دستخط کیے۔اپنے ابتدائی فیصلوں میں انہوں نے تمام گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ تک مفت بجلی کی فراہمی کا آرڈر جاری کیا۔ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئی ریپڈ رسپانس فورس تشکیل دی اور ریاست بھر میں منشیات کے خاتمے کے لیے بھی خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا حکم دیا، جس کے تحت اسکولوں اور کالجوں کے گرد پروٹیکشن زونز بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت تعلیم، صحت اور پانی جیسے بنیادی مسائل پر مکمل توجہ دے گی، کسانوں اور ماہی گیروں کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔وجے نے وزیر اعلی بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں واضح کیا کہ ان کی حکومت حقیقی، سیکولر اور سماجی انصاف کے نظریات پر عمل پیرا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ ہندوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان کا نظریہ ہے کہ ہر مذہب ہمارا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بطور وزیراعلی وہ کسی بھی قسم کی مذہبی تفریق کو قبول نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ ان کی حکومت سازی میں انڈین یونین مسلم لیگ کے دو اراکین اسمبلی کی حمایت بھی شامل رہی ہے، جس کا انہوں نے شکریہ بھی ادا کیا۔جوزف وجے نے اپنے خطاب میں جذباتی انداز میں کہا کہ آج ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا بیٹا وزیرِاعلی بنا ہے، میں نے غربت اور بھوک دیکھی ہے، میں کسی شاہی خاندان سے نہیں آیا۔ میں نے بہت مشکل حالات دیکھے ہیں، لیکن آپ نے مجھے اپنے دل میں جگہ دی۔

انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ جھوٹے وعدے نہیں کریں گے اور ریاستی وسائل کی لوٹ مار کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ہم نے ایک ایسی حکومت ورثے میں لی ہے جس پر تقریبا 10 لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے، لیکن ہم عوام کے پیسے کا ایک روپیہ بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔واضح رہے کہ جوزف وجے کا تعلق تامل فلم انڈسٹری سے ہے، جہاں وہ دہائیوں تک ایک سپر اسٹار کے طور پر راج کرتے رہے ہیں۔ ان کے والد ایس اے چندر شیکھر ایک مشہور تامل فلم ڈائریکٹر ہیں، جبکہ ان کی والدہ شوبھا چندر شیکھر ایک گلوکارہ ہیں۔وجے نے اپنی فلموں میں اکثر بدعنوانی اور سماجی مسائل کے خلاف آواز اٹھائی، جس نے ان کے سیاسی کیریئر کی بنیاد رکھی۔ ان کی پارٹی تاملگا ویٹری کزگم (تامل ناڈو تبدیلی تحریک)کا نظریہ سیکولرازم، سماجی انصاف اور تامل قوم پرستی پر مبنی ہے۔وجے نے 2026 کے انتخابات سے قبل اپنی فلمی زندگی کو خیرباد کہہ دیا تاکہ وہ مکمل طور پر عوامی خدمت اور سیاست پر توجہ دے سکیں۔ وہ تامل ناڈو کی تاریخ میں 1967 کے بعد پہلے وزیر اعلی ہیں جنہوں نے ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے تسلط کو ختم کر کے اقتدار حاصل کیا ہے۔یہ حلف برداری تقریب تقریبا ایک ہفتے کی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد ممکن ہوئی، کیوں کہ ان کی جماعت ٹی وی کے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اکثریت کے لیے درکار 118 کا ہدف پورا نہ کر سکی۔ بعد ازاں کانگریس، سمیت دیگر مقامی جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد ان کے اتحادیوں کی تعداد 120 تک پہنچ گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اب جوزف وجے کی حکومت کو اصل امتحان اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں درپیش ہوگا، جو 13 مئی سے قبل لینا لازمی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔