اسلام آباد:(آئی پی ایس) پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر متنازع پوسٹ سے متعلق کیس میں سینئر صحافی فخر الرحمان کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جج عباس شاہ نے کی، جبکہ فخر الرحمان کی جانب سے بیرسٹر احد کھوکھر پیش ہوئے۔
اس موقع پر صدر پی یو ایف جے افضل بٹ بھی عدالت میں موجود تھے۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی احد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملزم کا موبائل فون برآمد کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم ایک بزرگ شہری ہے اور باقاعدگی سے ادویات استعمال کر رہا ہے۔ وکیل کے مطابق فخر الرحمان نے اپنی کوئی ذاتی رائے نہیں دی بلکہ ایک مذہبی رہنما کا بیان ٹویٹ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں ملزم کے کردار کی وضاحت بھی موجود نہیں، لہٰذا یہ ایک بے بنیاد مقدمہ ہے اور عدالت سے ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی گئی۔
دوسری جانب پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ پراسکیوشن نے سوال اٹھایا کہ آیا مذکورہ بیان کی تصدیق ڈی جی آئی ایس پی آر یا وزارت دفاع سے کی گئی تھی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ایسی ٹویٹس ماضی میں حساس علاقوں میں کشیدگی کا باعث بن چکی ہیں اور پاکستان و ایران کے تعلقات کے تناظر میں بھی معاملہ نہایت حساس ہے۔پراسکیوشن نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی ضمانت مسترد کی جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سینئر صحافی فخر الرحمان کی ضمانت منظورکر لی۔
