Wednesday, April 22, 2026
ہومبریکنگ نیوزامریکا کی قطر میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کو کانگو منتقل کرنے کی تجویز

امریکا کی قطر میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کو کانگو منتقل کرنے کی تجویز

دوحہ (آئی پی ایس )امریکی انتظامیہ کانگو کے حکام کے ساتھ قطر میں پھنسے ہوئے تقریبا 1,100 افغان شہریوں کی وہاں آباد کاری کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔یہ معلومات ایک وکالتی تنظیم کی جانب سے سامنے آئی ہے جو امریکی ویزوں کے انتظار میں دوحہ میں پھنسے افغان شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ مذاکرات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان کے بعد افغانستان سے فرار ہونے والے افراد کو درپیش قانونی مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔

کیونکہ افغان شہریوں کے لیے امریکی امیگریشن ویزا پروسیسنگ عملا روک دی گئی ہے۔اس تعطل کے باعث یہ افراد کابل سے امریکی انخلا کے 4 سال بعد بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ افغان ایویک نامی اتحاد کے بانی اور صدر شان وان ڈیور کے مطابق امریکی حکام نے انہیں اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

ان کے مطابق ان افغانوں کو کانگو میں آباد کرنے کی تجویز ناقابلِ قبول ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہاں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہے۔یہ افغان شہری اس وقت قطر کے ایک سابق امریکی فوجی اڈے میں مقیم ہیں، جہاں انہیں امریکی امیگریشن ویزا کے عمل کی تکمیل کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ان میں سے کچھ افراد امریکی شہریوں کے رشتہ دار ہیں یا انہوں نے 20 سالہ جنگ کے دوران امریکی امداد یافتہ اداروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ تاہم یہ عمل اس وقت رک گیا جب جنوری 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا۔

گزشتہ جون میں افغانستان کو 12 ممالک کی اس فہرست میں شامل کیا گیا جن پر سفری پابندیاں لگائی گئیں، اگرچہ امریکی فوج اور سفارت کاروں کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے لیے خصوصی استثنی رکھا گیا تھا۔ نومبر میں واشنگٹن نے تمام افغان شہریوں کے لیے امیگریشن ویزا پروسیسنگ مکمل طور پر روک دی، جس کی وجہ ایک سابق افغان اہلکار کی جانب سے امریکی نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ بتایا گیا۔ فروری میں ایک امریکی وفاقی جج نے قرار دیا کہ افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ پر پابندی غیر قانونی ہے، تاہم عملی طور پر یہ عمل اب بھی تقریبا معطل ہے۔

افغان ایویک کے مطابق ان 1,100 افراد کی پہلے ہی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ افغانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنا ایک مثبت حل ہو سکتا ہے، جس سے انہیں افغانستان سے باہر نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کانگو زیر غور ممالک میں شامل ہے یا نہیں، دوسری جانگ کانگو کی حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

افغان ایویک کے مطابق کانگو میں طویل عرصے سے جاری تنازعات اور مشرقی علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث امکان کم ہے کہ افغان اس ملک میں آبادکاری قبول کریں گے۔وان ڈیور نے کہا کہ اگر وہ انکار کریں تو امریکا اسے بنیاد بنا کر انہیں افغانستان واپس بھیج سکتا ہے، جو ان کے مطابق خطرناک ہوگا۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ ممکنہ طور پر ان افراد سے جان چھڑانے کی کوشش ہے، جن میں خواتین، بچے اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ان افغانوں کو بوٹسوانا میں آباد کرنے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن وہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکا نے ایک نیا شرط عائد کی تھی کہ ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد کو 15 ہزار ڈالر کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔