لندن (سب نیوز )برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک سابق اعلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر امریکا میں تعیناتی کے ضمن میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر کی جانب سے مسلسل دبا ئو کا سامنا رہا تھا۔سابق اعلی عہدیدار اولی رابنز کے اس انکشاف نے برطانوی وزیرِاعظم کے لیے خطرہ بنتے ہوئے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔سر کیئر سٹارمر کے ممکنہ طورپر عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہوں میں یہ سوال بھی زیر گردش ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا؟

کشمیری پس منظر سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد شبانہ محمود جو اس وقت بطور وزیر داخلہ خدمات سر انجام دے رہی ہیں ہاٹ فیورٹ ہیں جو سر کیئر سٹارمر کی جگہ لے سکتی ہیںاگر موجودہ وزیر اعظم سفیر تعیناتی بحران کی زد میں آتے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے اختیار کی گئی حالیہ پالیسی اور کڑے اقدامات نے شبانہ محمود کو دیگر امیدواروں کے مقابلے میں برتری دلوائی ہے ،اگر انہیں یہ سیٹ مل جاتی ہے تو وہ برطانوی تاریخ کی تیسری اور پہلی مسلمان وزیر اعظم ہو سکتی ہیں۔
سفیر تنازع اس بات پر شدت اختیار کر گیا ہے کہ اپنے ماضی اور بدنام امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باوجود پیٹرمینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کے اعلی ترین سفارتی عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا۔ لیبر پارٹی کے سینیئر رہنما کی امریکا میں بطور برطانوی سفیر کی تعیناتی کے معاملے پر لفظی جنگ نے اسٹارمر پر دبا بڑھا دیا ہے اور ان کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے گزشتہ روز اعتراف کیا ہے کہ مینڈلسن کی تقرری ایک غلطی تھی اور اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔تاہم انہوں نے ذمہ داری وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں پر یہ کہتے ہوئے ڈال دی کہ انہیں اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ سیکیورٹی جانچ کرنے والے ادارے نے اس تقرری کے خلاف مشورہ دیا تھا۔
منگل کو وزارتِ خارجہ کے سابق اعلی عہدیدار اولی رابنز نے اپنا مقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مستقل دبا کا سامنا تھا۔انہیں گزشتہ جمعرات کو اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا جب اسٹارمر اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ رابنز نے کہا کہ اگرچہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مینڈلسن کو اس عہدے کے لیے کلیئرنس مل چکی ہے، لیکن تقرری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شدید دبا تھا اور اسے تقریبا طے شدہ معاملہ سمجھا جا رہا تھا۔
پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے، ایک موقع پر جذباتی نظر آنے والے رابنز نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال میں داخل ہوگئے، جہاں پہلے ہی بہت مضبوط توقع موجود تھی کہ مینڈلسن کو جلد از جلد امریکا میں تعینات کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2025 کے دوران ان کا دفتر اور وزیرِ خارجہ کا دفتر مسلسل دبا میں رہے، اور انہیں بار بار فون کالز موصول ہوتی رہیں۔ انہوں نے خود کو ایک موقع پر قربانی کا بکرا بھی قرار دیا۔
رابنز کے بیانات سے وزیر اعظم اسٹارمر پر دبا میں مزید اضافے کا امکان ہے، 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑی کامیابی دلانے والے اسٹارمر اب کئی ماہ سے جاری اس اسکینڈل کے باعث مستعفی ہونے کے مطالبات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کیئر اسٹارمر کو ہٹانے کا کوئی امکان نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 7 مئی کو انگلینڈ میں بلدیاتی انتخابات اور ویلز و اسکاٹ لینڈ میں علاقائی انتخابات میں پارٹی کو بڑے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
