Monday, April 6, 2026
ہومکالم وبلاگزبلوچستان: بیانیوں کی جنگ اور زمینی حقائق

بلوچستان: بیانیوں کی جنگ اور زمینی حقائق

تحریر: محمد محسن اقبال


ایک ایسے عہد میں جب اطلاعات کی رفتار سچائی سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے، بلوچستان کا معاملہ محض ایک تنازع نہیں رہا بلکہ بیانیوں کا ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں کچھ آوازیں حقیقت کی بنیاد پر قائم ہیں اور کچھ مفادات کی آبیاری سے پروان چڑھائی گئی ہیں۔ ایسے میں یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ علیحدگی پسند عناصر اور ان کے بیرونی سرپرستوں کے دعوؤں کا سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا جائے، اور دنیا کے سامنے زمینی حقائق کی ایک واضح تصویر پیش کی جائے۔


اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان میں سرگرم بعض علیحدگی پسند گروہ صرف مقامی محرومیوں سے توانائی حاصل نہیں کرتے بلکہ انہیں پاکستان کے باہر موجود معاند عناصر کی جانب سے دانستہ سرپرستی بھی حاصل ہے۔ بھارت اور افغانستان میں موجود گمراہ حلقے، جو طویل عرصے سے پاکستان کے استحکام اور یکجہتی کے مخالف رہے ہیں، ان گروہوں کو مالی، لاجسٹک اور پروپیگنڈہ کی ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان کے عزائم نہ تو پوشیدہ ہیں اور نہ ہی بے ضرر؛ وہ انتشار کو ہوا دینا، وفاق کو کمزور کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنا چاہتے ہیں۔ مربوط مہمات کے ذریعے، جنہیں اکثر بین الاقوامی فورمز پر بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، یہ عناصر ایک ایسا بیانیہ تراشتے ہیں جو محرومی اور جبر کی داستان سناتا ہے مگر خطے کی پیچیدگیوں اور حقیقتوں سے یکسر عاری ہوتا ہے۔


تاہم پاکستان ان سازشوں سے بے خبر نہیں رہا۔ سفارتی سطح پر مؤثر روابط اور ٹھوس شواہد کی فراہمی کے ذریعے اس نے عالمی برادری کی توجہ بلوچستان میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی طرف مبذول کرائی ہے۔ متعدد ممالک کی جانب سے ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جانا نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی سچائی کا عکاس ہے بلکہ اس خطرے کی سنگینی کو بھی واضح کرتا ہے جس کا سامنا ملک کو ہے۔
حال ہی میں 27 مارچ 2026 کو جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام ایک کانفرنس میں میکسیکو کی انسانی حقوق کی وکیل محترمہ آنا لورینا ڈیلاگادیلو پیریز کے بیانات یک طرفہ بیانیوں کے نقصانات کی ایک واضح مثال ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے کردار کا احترام کرتا ہے اور تعمیری مکالمے کا خواہاں بھی ہے، تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ جب رائے دہی منتخب معلومات اور غیر مصدقہ دعوؤں پر مبنی ہو تو وہ حقیقت کو روشن کرنے کے بجائے اسے مسخ کر دیتی ہے۔


بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ محض آئینی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بین الاقوامی قانون کے اصولوں—خودمختاری اور علاقائی سالمیت—کے تحت عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے۔ صوبے میں کیے جانے والے سیکیورٹی اقدامات جبر کی مثال نہیں بلکہ دہشت گردی کے مسلسل خطرات کے خلاف ایک قانونی ردِعمل ہیں، جو ملکی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں، بشمول حقِ دفاع، کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں۔


مستند شواہد کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے گروہ شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور اہم تنصیبات کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب رہے ہیں۔ ان کی کارروائیاں حقوق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت کی ایک مہم ہیں جو امن اور ترقی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کی جانب سے ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جانا پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی صداقت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی ادارے بھی بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کر چکے ہیں اور مجرموں و ان کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تعاون پر زور دے چکے ہیں۔


یہ بھی ضروری ہے کہ ان تنظیموں کے کردار کو سمجھا جائے جو بظاہر انسانی حقوق کی وکالت کے نام پر کام کرتی ہیں۔ بلوچ نیشنل موومنٹ اور اس سے منسلک بعض حلقے دراصل عسکری گروہوں کے سیاسی اور پروپیگنڈہ بازو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ عناصر شدت پسندوں کو شہید بنا کر پیش کرتے ہیں اور لاپتہ افراد کے حساس مسئلے کو توڑ مروڑ کر حقیقت اور دہشت گردی کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔ متعدد مواقع پر یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ جن افراد کو‘‘لاپتہ’’قرار دیا گیا، وہ بعد ازاں عسکری سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے، جس سے انسانی ہمدردی کے نام پر سیاسی مفادات کے حصول کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔


پاکستان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ جبری گمشدگی جیسے مسائل نہایت سنجیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا، جو ریاست کے قانونی تقاضوں اور عدالتی نگرانی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور انہیں قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے کیسز ایسے افراد سے متعلق ہیں جو یا تو عسکری گروہوں میں شامل ہو گئے، مفرور ہیں یا انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت قانونی حراست میں ہیں۔ وسیع پیمانے پر اجتماعی قبروں یا ماورائے عدالت کارروائیوں کے الزامات آزادانہ تصدیق سے محروم ہیں۔
پاکستان نے اس تنازع کے انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس کے اسباب کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ بلوچستان میں بحالی اور شدت پسندی کے خاتمے کے مراکز کا قیام ایک دوراندیش حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انتہا پسند نظریات سے متاثر افراد کو تعلیم، رہنمائی اور فنی تربیت کے ذریعے معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اقدامات اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا مقصد صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ انسانی وقار اور پائیدار امن کا قیام بھی ہے۔


اس تمام معاملے کا مرکزی نکتہ ایک بنیادی فرق میں پوشیدہ ہے؛ ایک طرف حقیقی انسانی حقوق کے مسائل ہیں جنہیں پاکستان مکالمے اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے، اور دوسری طرف منظم پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا اور پرتشدد عناصر کو تقویت دینا ہے۔ قانونی انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مترادف قرار دینا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ان ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے جو دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
پاکستان قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ان بیانیوں کو مسترد کرتا ہے جو یک طرفہ، غیر مصدقہ اور سیاسی مقاصد سے آلودہ ہوں۔ بلوچستان میں امن کا راستہ تقسیم پیدا کرنے والی گفتگو میں نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم، ترقی کے فروغ اور انصاف کے قیام میں مضمر ہے۔
نتیجتا، بلوچستان کی حقیقت کو نعروں یا سرسری بیانات میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے متوازن فہم، سیاق و سباق کی گہری پہچان اور انصاف پسندی کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ وکالت اور ایجنڈے، حقیقت اور فسانے کے درمیان فرق کو سمجھتے ہوئے احتیاط سے کام لے، تاکہ وہ اس خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کر سکے، جو طویل عرصے سے تشدد اور غلط بیانی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔