سیول(آئی پی ایس) پاکستان کے ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (ای پی ایس) سینٹر کے سربراہ نے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا، جس میں ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (ای پی ایس) اور پوائنٹس پر مبنی سلیکشن میکانزم کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کا مقصد جنوبی کوریا میں پاکستانی کارکنوں کی تعیناتی میں اضافہ کرنا تھا۔اجلاس میں ملازمت کے خواہشمند افراد کو درپیش اہم مسائل پر غور کیا گیا اور پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ای پی ایس کے تحت امیدواروں کی نامزدگی کوریا کے مقامی ایمپلائمنٹ سینٹرز کے زیرِ انتظام ایک کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ہر آسامی کے لیے آجر کو تین تک امیدوار فراہم کیے جاتے ہیں، اور حتمی انتخاب کا مکمل اختیار آجر کے پاس ہوتا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی بیرونی ادارہ یا فرد اس عمل پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔اجلاس میں پاکستانی امیدواروں کے کم ریفرل تناسب پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکام کے مطابق کوریائی آجر ایسے کارکنوں کو ترجیح دیتے ہیں جن کی کوریائی زبان پر بہتر گرفت ہو، تاکہ وہ جلد کام کے ماحول سے ہم آہنگ ہو سکیں، پیداواریت میں اضافہ ہو اور صنعتی حادثات کے خطرات کم ہوں۔
ای پی ایس سینٹر نے امید ظاہر کی کہ زیادہ زبان جاننے والے پاکستانی کارکنوں کی ترسیل سے ان کی ساکھ بہتر ہوگی اور طویل مدت میں ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ریفرلز میں تاخیر کے حوالے سے وضاحت کی گئی کہ امیدواروں کی سفارش صرف آجر کی طلب کے مطابق کی جاتی ہے، اور ترجیح اُن افراد کو دی جاتی ہے جو زیادہ عرصے سے فہرست میں موجود ہوں، بشرطیکہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہوں۔اجلاس میں پوائنٹس پر مبنی سلیکشن سسٹم کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے تحت امیدواروں کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر ہوتا ہے۔
انتخاب کوریائی زبان کے ٹیسٹ اور مہارت کی جانچ کے اسکورز کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس سال سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے زبان کے ٹیسٹ میں کم از کم پاسنگ نمبر 60 کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بنیادی مہارت کے حصے کو آسان بنایا جائے گا جبکہ امیدواروں کے انٹرویوز پر زیادہ توجہ دی جائے گی تاکہ بہتر جانچ ممکن ہو سکے۔حکام نے مزید بتایا کہ اگرچہ موجودہ جاب سیکرز کی فہرستیں موجود ہیں، نئے امیدواروں کا اندراج بھی جاری ہے۔ اس کی ایک وجہ وبا کے بعد کی صورتحال ہے، کیونکہ جنوبی کوریا پہلے ہی بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کو داخلہ دے چکا ہے اور اب داخلوں کی رفتار کو متوازن کر رہا ہے۔ اسی لیے حکومت نے کوٹہ سسٹم میں تبدیلی کرتے ہوئے مجموعی سلیکشن کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر وزارتِ روزگار و محنت اور ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ سروس آف کوریا عملدرآمد کریں گے۔پالیسی کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ صنعتی شعبوں میں معمولی فرق کے علاوہ تمام شریک ممالک کے لیے سلیکشن کا معیار اور طریقہ کار یکساں ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بہتر رابطہ کاری اور تیاری، خصوصاً زبان اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری کے ذریعے جنوبی کوریا میں پاکستانی کارکنوں کے مواقع کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
