مسلح افواج پاکستان نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی مسلح افواج کی تیاری، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے، جس نے مسلح افواج پر عوام کے اعتماد کو فیصلہ کن طور پر مضبوط کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔
افواج پاکستان نے کہاکہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کو یقینی بناتے ہوئے تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مستعد اور پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ قومی یکجہتی، احترام اور تشکر کے ساتھ منایا جانے والا یہ اہم دن پیشہ ورانہ مہارت، ہمت اور اتحاد کے پائیدار جذبے کا ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواجِ ہمیشہ پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور قوم سے لازوال رشتے کو جذبہ خدمت کے ساتھ فخر سے نبھا رہی ہیں۔مسلح افواج نے کہاکہ معرکہ حق قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل بن گیا ہے، جو قومی عزم، عسکری مہارت اور حکمت عملی کی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔
افواج پاکستان کے سربراہان نے کہاکہ معرکہ حق کی کامیابی نے نہ صرف قومی اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم علاقائی قوت کے طور پر بھی اجاگر کیا، جو مثر دفاعی صلاحیتوں کا حامل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کے پرعزم اور مثر ردِعمل نے دشمن کی سازشوں، فالس فلیگ کے جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو عالمی سطح پر رسوائی اٹھانا پڑی۔
مسلح افواج نے کہاکہ پراکسی دہشتگردی سمیت روایتی اور ہائبرڈ چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود مسلح افواج نے زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور معلوماتی ڈومینز میں اعلی آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتے مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کو تقویت دی ہے۔ مسلح افواج نے کہاکہ معرکہ حق کی کامیابی کا پہلا سال اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہے۔
افواج پاکستان کے مطابق پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بامعنی مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
