Saturday, May 9, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کو درپیش خطرات

ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کو درپیش خطرات

تحریر:حسنین احمد

@Its__Hasnain

دنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات میں ماحولیاتی تبدیلی بڑے خطرے کے طور پرابھر رہی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی بڑے عرصے کیلئے زمین کے درجہ حرارت ہواوں کے رخ ہواوں کی رفتار میں تبدیلی کو کہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی اس کرہ ارض کا خاصہ رہی ہے اور اس کی پیدائش سے لیکرآج تک یہاں بے شمار تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اس کی رفتار نہایت سست رہی ہے تاہم اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب آنے کے بعد عالمی درجہ حرارت میں تقریبا 30 فیصد تک تبدیلی آئی ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے جون میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردارکیا گیا کہ دنیا کا مجموعی درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری زیادہ ہوچکا ہے اگر یہ درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھ گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اورکم وبیش چالیس کروڑ افراد کو ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر دنیا کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو آنے والی دہائیوں میں انسانوں سمیت دنیا پررہنے والی مختلف مخلوقات کی زندگی پراس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس وقت خلا میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج معمول سے بہت بڑھ گیا ہے جو گلوبل وارمنگ کا باعث بن رہا ہے۔دنیا کا درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے  گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہورہی ہیں اور دنیا کے بہت ساحلی شہر جیسا کہ شنگھائی، ہنوئی (ویت نام)، کولکتا،بنکاک وغیرہ 2050ء تک زیر اب آنے کا خطرہ ہیں۔ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو شدید سیلاب پہلے ایک صدی میں ایک بار آتے تھے کچھ شہروں میں آئندہ ہر سال آنے لگیں گے۔اس کے علاوہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آبی ذخائرکم ہورہے ہیں جو آنے والے برسوں میں خشک سالی کا باعث بنیں گے۔

ماحولیاتی تبدیلی مستقبل قریب میں تیسری دنیا کے ممالک کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہوں گے جس سے وہ یہ خطرہ ٹال سکے۔ان تیسری دنیا کے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی جانب سےجاری کردہ عالمی ماحولیاتی اشاریے میں پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ملکوں میں کیا گیا ہے جو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر دس ممالک کے فہرست میں سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے جو دو دہائیوں پہلے آٹھویں نمبر پر تھا۔پاکستان میں جنگلات کی کٹائی مسلسل جاری ہے جس کی وجہ سے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ مسلسل بڑھ رہا ہے جو درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ ہے۔2015 میں شائع ہونے والی حالیہ قومی جنگلاتی پالیسی کے مطابق پاکستان میں لکڑی کی مانگ اس کی ممکنہ پائیدار فراہمی سے 3 گنا زیادہ ہے۔ اس پالیسی میں کہا گیا کہ ملک میں سالانہ تخمینہ لگ بھگ 66 ہزار 700 ایکڑ درخت ضائع ہوجاتے ہیں۔جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی گلوبل کلائیمیٹ انڈیکس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 1998 سے 2017 تک آٹھویں نمبر پر تھا، وہ اب 1999 سے 2018 تک رونما ہونے والے موسمیاتی واقعات کے باعث دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر سے پانچویں نمبر پرآ گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اس عرصے کے دوران پاکستان میں موسمیاتی واقعات کے باعث 10 ہزار اموات ہوئیں اور ملک کو تقریباً چار ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ پورے خطے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جس کی وجہ جنگلات کا رقبہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھوٹان میں کل رقبے کے 25 فیصد پر جنگلات ہیں جبکہ پاکستان میں تین سے چار فیصد پر بھی جنگلات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں گنجان آبادی کے باعث بھی مسئلے پیدا ہورہے ہیں۔ آنے والے وقت میں زرخیز زمین اور پانی آدھا رہ جائے گا اور آبادی دگنی ہو جائے گی اور صورتحال بہت گمبھیر ہو جائے گی۔

لہذا دنیا کو آنے والے اس شدید خطرے سے نمٹنے کیلئے ابھی سے ہی اقدامات کرنا چاہیے مگر بدقسمتی سے اس بارے میں عالمی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر کچھ ہو بھی رہا ہے تو وہ صرف کانفرنس تک محدود ہے۔دنیا کے بڑے ممالک جیسا کہ چین،امریکہ اور انڈیا وغیرہ سب سے زیادہ ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر ان کے اقدامت قابل ستائش نہیں۔ان بڑے ممالک کے برعکس بھوٹان جیسے چھوٹے ملک نے اقدامات کرکے خود کو کاربن فری بنا دیا ہے۔ان بڑے ممالک کو یہ مسئلہ سنجیدگی سے لیکر ٹھوس اقدامات کرنا چاہیے۔ایک تو دنیا کو گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کیلئے الیکٹرانک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے،ایسے فورمز بنانے چاہیے جس میں تمام عالمی لیڈران اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرسکیں،امیر ممالک غریب ممالک کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مالی امداد دے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائے تاکہ ماحولیاتی الودگی کو کم کیا جاسکےاس کے علاوہ ہر ملک کو انفرادی اقدامات کرنا چاہیے۔

پاکستان اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کافی اقدامات کررہا یے جو قابل ستائش ہے جس میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ سرفہرست ہے۔ مگر اس کے علاوہ درختوں کے تحفظ کیلئے بھی اقدامت کرنا چاہیے،تمام شہریوں میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اگاہی پھیلانی چاہیے اور ٹمبر مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنا چاہیے اوروقت کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات تیز کرنا چاہیے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم یعنی شہریوں کی بھی ذمہ داریاں ہے۔ ہمیں نئے درخت لگانے چاہیے، درختوں کی کٹائی سے گریز کرنا چاہیے اور پرانے درختوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ہم سب باہمی اتفاق سے ہی اس خطرے سے چھٹکارا پاسکتے اور اپنی خوبصورت دنیا کو بچا سکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔