Monday, June 15, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانپختونخوا میں سیلابی ریلوں سے تباہی، 4اضلاع آفت زدہ قرار، 146سے زائد جاں بحق، صرف بونیر میں 75اموات کی تصدیق

پختونخوا میں سیلابی ریلوں سے تباہی، 4اضلاع آفت زدہ قرار، 146سے زائد جاں بحق، صرف بونیر میں 75اموات کی تصدیق

پشاور (سب نیوز)خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کلاڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں اب تک 146 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے، رابطہ سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے۔حکام کے مطابق مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 7 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ تین زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں126 مرد، 8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔پی ڈ ایم اے کا بتانا ہے کہ 35 گھروں کو نقصان پہنچا،28 گھر جزوی اور7 گھر مکمل تباہ ہوگئے۔
دوسری جانب ضلع مانسہرہ کے علاقے بٹگرام میں رات گئیکلاڈ برسٹ سے متعدد افراد ریلے میں بہہ گئے۔ بٹگرام میں 7 افراد جاں بحق اور شانگلہ میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں کئی مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں مال مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے صوبے میں کلاڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق کلاڈ برسٹ اور سیلاب سے بھاری جانی نقصانات ہوئے، خیبرپختونخوا میں اموات کی تعداد 146 سے زیادہ ہوگئی ہے، سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا۔اتھارٹی کا بتانا ہے کہ بونیر کے12 سے زیادہ دیہات کلاڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے، بارش، کلاڈ برسٹ اور فلیش فلڈ کے باعث 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ اضلاع قراردے دیا گیا ہے، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو ٹیموں کی تعداد میں مذید اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، امدادی سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہاہے۔
دوسری جانب میڈیکل آفیسر پیر بابا اسپتال بونیر ڈاکٹر امتیاز کا بتانا ہے کہ پیر بابا اور گردونواح میں اب تک 43 لاشیں لائی جا چکی ہیں، لائی گئی لاشوں میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ادھر ڈپٹی کمشنر بونیر نے تصدیق کی ہے کہ طوفانی بارشوں اور آبی ریلوں سے 75 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 56 افراد کی لاشیں اسپتال پہنچائی جا چکی ہیں۔ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ بونیر میں سیلاب میں بہہ کر متعدد افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے، میں 12 کے قریب دیہات کلاڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔
آزاد کشمیر میں بھی کلا برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی بارش کے بعد مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔آزاد کشمیر حکومت نے شدید بارشوں کے باعث دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔