اعجازعلی ساغر اسلام آباد
Twitter: @SAGHAR1214
تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے تین سال مکمل ہوچکے ۔اس حوالے سے ہر وزارت اپنی اپنی تین سالہ کارکردگی پیش کرنے جارہی ہے ۔ موجودہ حکومت کئی حوالوں سے ہمیشہ یادگار رہے گی ۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے پارٹی منشور میں واضح کردیا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ کریں گے اور گرین پاسپورٹ کی عزت پوری دنیا میں بنائیں گے جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو اس وقت قومی خزانہ خالی ہوچکا تھا اور لیے گئے قرض پر سود کی رقم ادا کرنے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ اس وقت اگر چین،سعودیہ اور دوسرے دوست ممالک مدد نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا ۔معاشی طور پر تباہ حال پاکستان کی باگ دوڑ عمران خان کے ہاتھ میں آئی۔ یہ ایک مشکل چیلنج تھا کیونکہ عمران خان کی ٹیم نہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن کچھ کرنے کا ازم لیے ہوئی تھی چنانچہ حکومت میں آتے ہی عمران خان نے قوم سے کیے ہوئے وعدوں کی تکمیل کیلئے کام شروع کیا۔ اس وقت دنیا ایک عالمی وبا کی لپیٹ میں آچکی تھی ووہان سے شروع ہونیوالے وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر سو تباہی پھیلا دی۔لاکھوں افراد اس موذی وبا کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے جبکہ اس سے متاثر ہونیوالوں کی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی ہے۔اس وبا نے دنیا کی معیشت کو تباہ کردیا۔ حکومتیں فلاپ ہوگئیں ۔دنیا کے طاقتور اور سپرپاور ملکوں نے اپنے اپنے ملکوں میں لاک ڈاؤن کو ترجیح دی جبکہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت دنیا بھر کے حکمرانوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ تمام ممالک نے عمران خان کی تقلید کرتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کو اپنانے میں ہی عافیت سمجھی۔امریکہ جیسے ملک کے حالات یہ ہوگئے کہ اسکے کیپیٹل واشنگٹن ڈی سی میں ملازمین کو دینے کیلئے تنخواہوں کے پیسے نہیں تھے۔ اس عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد بیروزگار ہوئے جسکی وجہ سے دنیا بھر میں غربت میں اضافہ ہوا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر میں نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیا تو غریب طبقہ پس کر رہ جائے گا لہذا انہوں نے دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے کاروبار کے اوقات کار مقرر کردئیے تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو۔اس وبا کے ہوتے ہوئے تحریک انصاف کو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا کیونکہ پی ڈی ایم کی صورت میں اپوزیشن اکٹھی ہوچکی تھی اور تمام سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ چاہتی تھیں۔ ملک میں کرپشن عروج پر تھی۔ ادارے تباہ ہوچکے تھے ۔سیاسی بھرتیوں اور نان پروفیشنل لوگوں کی بھرمار نے ملک کو اس اسٹیج پر پہنچا دیا تھا ملک کو اندرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ بہت سے بیرونی چیلنجز کا بھی سامنا تھا۔ اسرائیل اور امریکن گٹھ جوڑ کی وجہ سے بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا جس کا منہ توڑ جواب دیا گیا ۔بھارتی پائلٹ ابھینندن گرفتار ہوا جسکو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔اس بھارتی حملے کا جس طرح سیاسی و عسکری قیادت نے موثر جواب دیا اس سے دنیا میں پاکستان کا بہترین امیج ابھرا اور دنیا نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی مدبرانہ سوچ اور عمل کی تعریف کی۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تحریک انصاف کے منشور کا حصہ تھا جس کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ایسے اقدامات سے کنسٹرکشن کے شعبے کو فروغ ملا اور لاکھوں افراد کو نوکریاں ملیں۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرکے احساس پروگرام رکھا گیا جس کی چھتری تلے بہت سے پروگرام رکھے گئے ان پروگراموں میں شیلٹر ہومز،احساس کفالت پروگرام،صحت انصاف کارڈ،احساس ایجوکیشن اینڈ ٹیکنیکل اسکلز پروگرام،کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے بہترین پروگرام شامل تھے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو اسکی چیئرپرسن بنایا گیا۔اسی احساس پروگرام کے تحت کورونا کے دنوں میں ہر گھر میں 12000 روپے دئیے گئے تاکہ جن کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں ان کی کچھ مدد ہوسکے۔نوجوانوں کو باروزگار بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر قرض دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ نوجوان طبقہ جس کے پاس کوئی ہنر موجود ہے اور وہ پیسوں کی وجہ سے اس ہنر سے روزگار نہیں کما پارہا اس کو قرض دیکر باروزگار بنادیا گیا تاکہ وہ نوکریوں کا انتظار کرنے کی بجائے قرض لیکر کوئی اپنا کاروبار شروع کرسکیں اور معاشرے کے مفید شہری ثابت ہوں۔اس حکومت نے ان تین سالوں میں جہاں بہت سے اچھے کام کیے وہیں اس سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔ تحریک انصاف کی حکومت جو کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لیکر اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے ان تین سالوں میں ہر شعبے میں ریکارڈ کرپشن ہوئی بہت سے اسکینڈلز بنے جس میں آٹے کا بحران،شوگر اسکینڈل،ادویات وغیرہ شامل ہیں ۔کابینہ میں شامل وزرا نے قومی خزانے کو یتیم کا مال سمجھ کر لوٹا،تحریک انصاف کی حکومت ان تین سالوں میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی جو اب تک اسکی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔تحریک انصاف کے دور میں ہر چیز کی قیمت ڈبل ٹرپل ہوئی ہے 100 روپے کی چیز 300 روپے میں بیچنے والا دکاندار عمران خان اور تبدیلی کار کو گالی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ بہت مہنگائی ہوگئی ہے۔عمران خان صاحب کے پاس بقایا دو سال بچے ہیں جس آخری سال تو اگلے الیکشن کی تیاریوں میں گزر جائے گا باقی بچا ایک سال یہ ایک سال ہی کچھ کر دکھانے کا سال ہے۔ اگر تحریک انصاف اس ایک سال میں اپنی اسی پرانی روش پر رہی تو اگلے الیکشن میں اسے شکست سے کوئی نہیں بچا سکتا اور اگر اپنے منشور کے مطابق کچھ کر دکھایا تو پھر آنیوالے پانچ سال بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ہوں گے۔عمران خان کو چاپلوسوں کی چاپلوسی سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ آج نہیں تو کل بہرحال انہیں عوام میں جانا ہے۔اب وہ فیصلہ کرلیں کہ انہیں گلے میں ہار پسند ہیں یا گلے سڑے ٹماٹروں اور انڈوں سے استقبال؟یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔
