لاہور،سانحہ مینار پاکستان، پولیس نے 730 مشتبہ افراد میں سے 407 افراد کا انٹرویو کیا اور 130 کو گرفتار کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نادرا نے 9 افراد کی تصاویر شناخت کیں جس کے بعد انکے ساتھیوں کو پکڑا گیا ۔ سوشل میڈیا کی بنائی ہوئی ویڈیوز بھی کارآمد ثابت ہوئیں ۔ سب سے زیادہ کارآمد طریقہ جیوفینسنگ کا رہا ،جب پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں تو سوشل میڈیا صارفین کی بنائی ہوئی ویڈیوز کارآمد ثابت ہوئیں۔ لیکن ان ویڈیوز کے ذریعے پولیس محض چند مرکزی کرداروں کی شناخت ہی کر پائی جبکہ ہجوم میں درجنوں افراد ایسے تھے جو خاتون کو ہراساں کرنے میں ملوث تھے۔جیو فینسنگ کے لیے پولیس نے دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مدد حاصل کی۔جیو فینسنگ کی مدد سے گریٹر اقبال پارک میں ایک مخصوص علاقے کے اندر 14 اگست کو شام 6:30 بجے سے لے کر 7:40 منٹ تک 28863 کالوں کر ریکارڈ ملا۔ان کو ایک تجزیاتی عمل سے گزارنے اور نادرا کے ذریعے تصدیق کے بعد پولیس ان 730 مشتبہ افراد تک پہنچی جن میں سے 400 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے چنا گیا۔ پولیس کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد کو قانون کے مطابق شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا جا چکا تھا۔ ویڈیوز میں نظر آنے والے بہت سے افراد کی شناخت ممکن نہیں تھی صرف جدید ترین سائنسی طریقہ تفتیش سے ہی یہ گرفتاریاں ممکن ہوئیں۔
مینار پاکستان واقعہ کے ملزمان کو شناخت کیسے کیا گیا؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
