بیجنگ،چینی حکومت اب جوڑوں کو تیسرا بچہ بھی پیدا کرنے کی قانونی اجازت فراہم کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ملکی ڈیموگرافی میں تبدیلی لانا بھی ہے تاکہ بیجنگ حکومت عالمی سطح پر اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کا خواب پورا کر سکے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے اسی کی دہائی سے چین نے زیادہ تر جوڑوں کے لیے صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی بنائی تھی، جس میں 2015میں نرمی کر دی گئی تھی۔ جاپان اور جرمنی کے علاوہ ایسے متعدد ممالک ہیں، جہاں شرح پیدائش کم ہے اور جس کی وجہ سے لیبر مارکیٹ میں ایک خلا دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ چین میں 90 کی آبادی میں دہائی کے بعد سے 1.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، چین میں شادی شدہ جوڑوں میں سے کسی ایک کا بھی بہن یا بھائی نہیں ہے اور بڑی عمر کے افراد کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس کے علاوہ چین میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لئے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے شہروں کی جانب ہجرت کر جاتی ہے جس کی وجہ سے ماں باپ کو بڑھاپے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چین میں شادی شدہ جوڑوں کو اب تیسرابچہ پیدا کرنے کی بھی اجازت مل گئی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
