Tuesday, May 5, 2026
ہومتازہ ترینپینٹاگون کو امریکی ہتھیاروں پر طالبان کے قبضے پر تشویش ،احمد شاہ مسعود کے بیٹے کا مسلح مزاحمت کا اعلان

پینٹاگون کو امریکی ہتھیاروں پر طالبان کے قبضے پر تشویش ،احمد شاہ مسعود کے بیٹے کا مسلح مزاحمت کا اعلان

کابل /لندن /واشنگٹن، افغانستان پر کنٹرول کے دوران امریکی ہتھیاروں پر افغان طالبان کے قبضہ نے پینٹا گون شدید تشویش کا شکار ہو گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 2 ہزار بکتر بند گاڑیاں ، 40 طیارے طالبان کے ہاتھ لگ چکے ہیں، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور سکین ایگل ڈرونز بھی طالبان کے قبضے میں ہیں، امریکی ٹیکنالوجی روس، چین یا القاعدہ کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔امریکی حکام کے مطابق 2002 سے 2017 تک افغان فوج کو 28 ارب ڈالرز کے ہتھیار دیے گئے، 2003 سے 2016 تک افغان فورسز کو 208 طیارے دیے گئے، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز افغانستان سمیت دنیا کے بہت کم ممالک کے پاس تھے، افغان فورسز نے ان طیاروں کو لڑنے کے بجائے بھاگنے کے لیے استعمال کیا۔امریکی حکام کے مطابق 40 سے 50 طیارے ازبکستان میں اتارے گئے ہیں، ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو فضائی حملے میں تباہ کیا جاسکتا ہے، فی الحال پوری توجہ کابل سے اپنے لوگوں کو بحفاظت نکالنے پر ہے، طالبان جنگجو امریکی رائفل تھامے گھومتے نظر آتے ہیں۔دوسری طرف روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اے ایف پی کے مطابق وہ ماسکو میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ پیوٹن نے امید کا اظہار کیا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور یہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے نکل کر خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکا جائے۔ باہر سے بیٹھ کر اجنبی اقدار مسلط کرنے اور ان ممالک کے لیے اجنبی ماڈل کی جمہوریت تیار کرنے کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو رکنا چاہیے جس میں تاریخی، قومی اور مذہبی روایات کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔ ادھر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑی تو طالبان کے ساتھ ملکر بھی کام کرینگے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ میں اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کا حل تلاش کرنے کے لیے ہماری سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، جس میں ضرورت پڑنے پر طالبان کے ساتھ کام کرنا بھی ہے۔برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نک کارٹر نے کہا ہے کہ طالبان اس بار تبدیل ہوکر آئے ہیں اور ماضی کے مقابلے میں قدرے مختلف ثابت ہوسکتے ہیں۔ نک کارٹر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں طالبان اس بار اپنے رویے اور برتاو میں کافی تبدیلی کے ساتھ واپس آئے ہیں اور نئی افغان حکومت میں دیگر فریقین کو بھی شامل کریں گے۔برطانوی جنرل نک کارٹر نے مزید کہا کہ طالبان کو افغانستان میں نئی حکومت بنانے کے لیے مکمل موقع اور وقت دیا جانا چاہیے۔ طالبان بھی ایسا افغانستان چاہتے ہیں جو سب کے لیے ہو۔علاوہ ازیں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان اسلامی امارت ہیں، اعلی قیادت سے مشاورت کے بعد اسلامی حکومت تشکیل دی جائے گی۔دوحا میں موجود طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے چینی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر قندھار میں اعلی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں، گزشتہ 20 سالوں سے اسلامی امارت کا نام پر ہی جنگ لڑی ہے، حکومت میں طالبان رہنماوں کے علاوہ دیگر سیاست دان بھی شامل ہوں گے۔ نئے حکومتی سیٹ اپ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔دوسری طرف 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف بھرپور جنگ کرنے والے مقتول رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے پنج شیر وادی میں اپنے گڑھ سے طالبان کے خلاف لڑنے کا عہد کیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سویت یونین سے جنگ میں ہیرو قرار دیئے جانے والے سابق افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کے افسران اور اہلکار بشمول ایلیٹ اسپیشل فورسز یونٹس کے اہلکار بھی ہمارے ساتھ ہیں۔احمد مسعود نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ بھی ہے جو افغان فوج کے اہلکار اپنے ساتھ لائے ہیں جب کہ والد کے زمانے کے سنبھال کر رکھے ہوئے گولہ بارود اور اسلحے کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ ہمیں معلوم تھا ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب کہ یہ اسلحہ و بارود دوبارہ استعمال کرنا پڑیں گے۔گو ابھی تک طالبان جنگجو پنج شیر کی تنگ وادی میں داخل نہیں ہوئے ہیں تاہم احمد مسعود نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے ہمارے گڑھ میں داخل ہوکر جنگ مسلط کی تو ہماری جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر اقوام متحدہ کو بھیجی گئی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ طالبان گھر گھر جاکر امریکا اور نیٹو کیلئے کام کرنے والے افغانوں کو تلاش کر رہے ہیں۔کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان کیا تھا اور اس کے علاوہ کابل ائیرپورٹ پر موجود باہر جانے والے افراد سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ ملک سے نہ جائیں۔تاہم اب اقوام متحدہ کو بھیجی گئی رپورٹ میں دعوی کیا گیاکہ طالبان گھر گھر جاکر امریکا اور نیٹو کیلئے کام کرنے والے افغان باشندوں کو تلاش کررہے ہیں۔یہ رپورٹ اقوام متحدہ کو انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے نارویجین سینٹر فار گلوبل اینالیسس کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان کے پاس ایسے افراد کی ترجیحی فہرست موجود ہے جنہیں وہ گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے فہرست میں موجود افراد کو کابل ائیرپورٹ پر ڈھونڈا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔