بنوں (سب نیوز)چیف جسٹس پاکستان کا پشاور ہائیکورٹ، بنوں بینچ کا دورہ، دورے کا مقصد مشکل حالات میں کام کرنے والے ججز سے اظہار یکجہتی ہے۔ سپریم کورٹ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے دورہ کے موقع پر کہا کہ ضلعی عدلیہ کی آزادی اور سلامتی منصفانہ انصاف کی فراہمی کیلئے ناگزیر ہے۔
چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ میں ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے پر تفصیلی مشاورت ہوئی ،چیف جسٹس یحیی آفریدی کی بنوں، کرک، لکی مروت اور شمالی وزیرستان کے ججز و وکلا سے ملاقات، قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے ایجنڈے پر ادارہ جاتی ہم آہنگی، عدالتی صلاحیت اور قانونی تعلیم اصلاحات پر تبادلہ خیال، سپریم کورٹ کمرشل لٹیگیشن کوریڈور کے قیام کی تجویز پر بھی مشاورت کی گئی،ججز کی شفافیت، اہلیت اور احتساب کے لیے پرفارمنس ایکسیلنس انڈیکس بنانے کی تجویز دی گئی ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈبل ڈوکیٹ کورٹس کا اختیاری ماڈل بار، بنچ اور فریقین کے تعاون سے مشروط ہوگا،ماڈل کریمنل کورٹس کی بحالی تاخیر کا شکار مقدمات کے حل کے لیے ناگزیر ہے، عدالتی نظام کی آٹومیشن ناگزیر، جلد منعقد ہونے والے سمپوزیم کا حوالہ، اعلامیہ فنڈز کو پسماندہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے،پسماندہ علاقوں میں تعینات ججز کے لیے غیر ملکی تربیت اور ایکسپوژر وزٹس ضروری ہیں، پسماندہ علاقوں میں تعیناتی کے لیے اعلی ترین صلاحیت کے حامل ججز کو تعینات کیا جائے ۔
