ہومتازہ تریناشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب،ملک سے فرار ہو گے،طالبان تخت کابل پر قابض،جنگجوئوں کی تیزی پر دنیا حیران

اشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب،ملک سے فرار ہو گے،طالبان تخت کابل پر قابض،جنگجوئوں کی تیزی پر دنیا حیران

کابل ، افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا، اشرف غنی اپنی ٹیم کے ساتھ مستعفی ہو کر تاجکستان فرار ہو گئے جس کے بعد طالبان نے صدارتی محل کو کنٹرول سنبھال لیا ، عبوری حکومت کیلئے جاری مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ، امریکی، برطانوی و دیگر ممالک کاسفارتی عملہ منتقل کر دیا گیا ، افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان شہری خوفزدہ نہ ہوں ، کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا ۔
تفصیلات کے مطابق طالبان جنگجووں کو افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کے قریبی ساتھی کے ملک چھوڑ کر جانے کے بعد دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی جبکہ افغان اور غیر ملکی شہری انخلا میں مصروف ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جنگجووں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کے احکامات جاری کردیے۔خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کابل میں موجود طالبان کے دو سینئر کمانڈروں نے بتایا کہ افغان صدارتی محل کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ آن لائن ویڈیو بیان میں اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کردی۔انہوں نے کہا کہ وہ مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ ان سے پوچھے گا۔عبداللہ عبداللہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں افغان سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے طالبان سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی نقصان نہ پہنچائیں یا ایسا عمل نہ کریں جس سے کابل میں افراتفری ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی مشکل وقت میں ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں، جس پر انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔دوسری جانب افغان رہنمائوں نے طالبان سے انتقال اقتدار کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رابطہ کونسل تشکیل دے دی ہے۔سابق صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں کہا کہ کونسل کی قیادت قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کریں، جس میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار اور حامد کرزئی خود شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بے یقینی کو ختم کرنے، عوام کی مشکلات دور کرنے اور پرامن انتقال اقتدار ہے۔طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا ہے۔ زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کر لیا ہے۔ افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔امریکی اور برطانوی سفارتی عملے کا کابل سے انخلا کا عمل جاری ہے۔ دیگر ممالک کی جانب سے بھی افغانستان سے شہریوں کی واپسی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ روس نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کو واپس نہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان روسی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل میں ماسکو کے سفیر سے رابطے میں ہیں، سفارتی عملے کی واپسی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی میڈیا اسے اہم فیصلہ قرار دے رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔دوسری جانب شہریوں اس خوف کے پیشِ نظر کہ طالبان دوبارہ جابرانہ نظام مسلط کردیں گے جس میں خواتین کے حقوق سلب ہوں گے، ملک چھوڑنے کی کوششیں کررہے ہیں اور مشینوں سے رقم نکالنے کے لیے طویل قطاریں لگ گئیں۔قبل ازیں اتوار کے روز ہی طالبان نے افغان حکام کے زیر انتظام آخری زمینی گزرگاہ طورخم بارڈر پر بھی قبضہ کرلیا جس کے بعد افغانستان سے باہر جانے کا واحد ذریعہ کابل ایئرپورٹ ہی بچا ہے جو اشرف غنی حکومت کے زیر انتظام ہے۔افغان صدارتی محل کی ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ کابل کے اطراف میں متعدد مقامات پر فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں لیکن سیکیورٹی فورسز بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔اس سے قبل طالبان نے مزاحمت اور لڑائی کے بغیر افغانستان کے شہر جلال آباد پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول دارالحکومت کابل تک ہی محدود ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ افغانستان میں امریکا نے 2001 میں پہلی مرتبہ طالبان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جو نائن الیون حملوں کا نتیجہ تھا۔تاہم 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد گزشتہ برس فروری کو امن معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ بات چیت پر اتفاق ہوا تھا۔افغانستان میں جاری لڑائی میں رواں برس مئی سے ڈرامائی تبدیلی آئی جب امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں مہینے کے اختتام سے قبل انخلا مکمل ہوجائے گا۔جس کے پیشِ نظر طالبان کی جانب سے پہلے اہم سرحدی علاقوں پر قبضہ کیا گیا اور پھر برق رفتاری سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔چند روز قبل ایک امریکی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ طالبان 90 روز میں کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔