ہومشوبزگلوکارہ نازیہ حسن کی اکیسویں برسی پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

گلوکارہ نازیہ حسن کی اکیسویں برسی پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

کراچی، پاکستان کی پاپ انڈسٹری کو چار چاند لگانے والی نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔برصغیر میں پاپ میوزک انڈسٹری کی بانی اور پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نازیہ حسن کے بھائی ذوہیب حسن نے بہن کے شوہر اشتیاق بیگ کو موت کا ذمہ دار قرار دے دیا ۔معروف گلوکارہ ، کروڑوں دلوں کی دھڑکن نازیہ حسن کے بھائی ذوہیب حسن نے بہن کے قتل کا الزام ان کے شوہر پر عائد کرتے ہوئے کہا کہنازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ نے انہیں زہر کھلایا اور برا سلوک کرتے رہے دوسری جانب سابق شوہر اشتیاق بیگ نے الزامات کو مسترد کردیا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے زوہیب حسن نے کہا کہ نازیہ کے سابق شوہر اشتیاق بیگ نے گلوکارہ کو برطانیہ میں قیدی بنا کر رکھا اور ان سے برا سلوک کرتے تھے، اشتیاق بیگ نے نازیہ کو زہر آلود کھانا دیا اور یہ بات نازیہ نے مرنے سے قبل خود اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بتائی۔زوہیب حسن نے کہا کہ نازیہ حسن نے اشتیاق بیگ کے مظالم سے تنگ آکر طلاق لی، اشتیاق بیگ سے نازیہ کی شادی کروانا سب سے بڑی غلطی تھی۔ نازیہ نے لندن میں حلف کے تحت جو بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اس میں نازیہ نے خود لکھوایا تھا کہ اس کے شوہر نے اسے کچھ کھلایا تھا اوروہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتا تھا ، نازیہ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھ سے لکھ چکی تھیں کہ وہ طلاق چاہتی ہیں ۔خیال رہے کہ نازیہ حسن 3اپریل 1965کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن سے کیا، تعلیم لندن میں مکمل کی، نازیہ حسن کا شمار برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔نازیہ نے کم سنی میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا، عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی، جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ریکارڈ کروایا، جس پرانہیں بھارت کے مشہور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے نے نازیہ کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے وسطی ایشیا میں پاپ موسیقی کی ملکہ بنا دیا، نازیہ کی زندگی کے سب سے اہم جزو ان کے بھائی زوہیب حسن تھے، جنھوں نے نازیہ کی پوری زندگی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں نازیہ کے کئی البم اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ جاری ہوئے۔نازیہ کا پہلا البم ڈسکو دیوانے 1982 میں ریلیز ہوا۔ جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے، اس البم میں ان کے بھائی زوہیب حسن نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا تھا، نازیہ حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔نازیہ صرف گلوکارہ ہی نہیں سیاسی تجزیہ نگار کے طور پر اقوام متحدہ سے وابستہ رہیں، 1991میں انہیں پاکستان کے ثقافتی سفیر مقرر کیا گیا۔نازیہ حسن پہلی پاکستانی ہیں، جنہوں نے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا اور بیسٹ فیمیل پلے بیک سنگر کی کیٹیگری میں کم عمر ایوارڈ جیتنے والی گلوکارہ قرار پائیں۔نازیہ حسن کی وفات کے بعد 2002 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا اعزاز پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیا جبکہ دو ہزار تین میں ان کی یاد میں نازیہ حسن فاونڈیشن قائم کی گئی۔ نازیہ حسن 13اگست 2000کو لندن کے اسپتال میں انتقال کر گئیں مگر ان کی سریلی آواز میں گائے گیت آج بھی دل دماغ کو ترو تازہ کر دیتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔