لاہور،پاکستان کے ماضی کے معروف پلے بیک سنگر اخلاق احمدکو ہم سے بچھڑے22برس بیت گئے۔اخلاق احمد میں ہوش سنبھالتے ہی گائیکی کا شوق پیدا ہوگیا تھا۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد1973میں اخلاق احمد کو کراچی میں بننے والی دو فلموں پا زیب اور بادل اور بجلی میں گائیکی کا موقع مل گیا ۔اخلاق احمد کا بطور گلوکار پہلی فلم پا زیب میں فیاض ہاشمی کا لکھا اور لال محمد اقبال کی موسیقی میں کامیڈی گیت او ماما میرے ، او چاچا میرے اوتایا میرے ، او میرے بھائی اداکار قوی خان پر فلمایا گیا تھا ۔1974میں وہ صف اول کے گلوکار بن گئے۔اخلاق احمد نے شوبز کی دنیا میں اس وقت قدم رکھا جب گلوکاروں کا فلمی دنیا میں جگہ بنانا نہایت مشکل تھا تاہم اخلاق احمد نے اپنی مسحور کن آواز اور انتھک محنت سے ایک الگ مقام حاصل کیا۔ بعد ازاں اخلاق احمد نے فلم بندش میں سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جیسا گیت گا کر شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔گلوکار نے بطور پلے بیک سنگر پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے کام کی اور کیرئیر کے دوران 86 فلموں کے لیے 177 نغمات گائے ان کے گائے ہوئے گانے آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں۔ اخلاق احمد4اگست1999کو صرف 53سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
پاکستانی گلوکار اخلاق احمد کو بچھڑے 22برس بیت گئے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
