چیئرمین نیب کی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان اور ضلعی انتظامیہ کوٹ ادو کی مشترکہ کارروائی کے دوران 3,831 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت تقریباً 8 ارب روپے بنتی ہے، بحق تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) ضبط کرتے ہوئے متعلقہ انتقالات خارج کر دیے گئے۔
نیب ملتان کی انکوائری کے نتیجے میں مذکورہ اراضی کی نشاندہی کی گئی، جسے بعد ازاں تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی معاونت سے بحق سرکارٹی ڈٰ اے/بحال کر دیا گیا۔
کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو بلال سلیم اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قدسیہ ناز نے سرکاری اراضی کی واگزاری کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی۔نیب ملتان کی دورانِ انکوائری مثل جات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی، جس کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی ہزاروں ایکڑ اراضی زائد استحقاق کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ٹی ڈٰی اے اراضی ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1949ء میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈٰ اے) کے قیام اور آبادکاری کے لیے حاصل کی گئی اراضی اور اس کی ایڈجسٹمنٹ کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، جعلی و بوگس فیصلہ جات، جعلی مثل جات اور فراڈ کے متعدد معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔کارروائی کے دوران اس امر کو خصوصی طور پر یقینی بنایا گیا کہ کسی حقیقی حقدار یا مالک کے قانونی حق کو متاثر نہ کیا جائے۔واضح رہے کہ نیب ملتان نےTDAکی غیرقانونی الاٹمنٹ و بوگس الاٹمنٹ کے معاملات کی جانچ پڑتال کیلیےخصوصی طور پر ٹیم تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈائریکٹر نیب ملتان رفیع اللہ کر رہے ہیں۔تاحال نیب ملتان نےلیہ اور کوٹ ادومیں ٹی ڈی اے زمین کی بحق سرکار بحالی کیلیےکلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق قومی اثاثہ جات کی ریکوری اور انہیں محفوظ بنانا نیب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے نیب ملتان تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہاہے۔
