تحریر: ماریہ بلوچ
پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری نہ صرف نوجوانوں بلکہ ہر عمر و طبقہ کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کے ساتھ منسلک ہے خواہ وہ رائٹر ڈائریکٹر ڈرامہ کی کاسٹ ہو یا انکو دیکھنے والی عوام کی کثیر تعداد۔۔۔
کسی بھی ڈرامے کی کامیابی یا ناکامی اس کے دیکھنے والوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ پرایئویٹ چینلز کی بھرمار میں بھی دیکھنے والوں کی کمی نہیں ہے یہی وجہ ہے جو یہ انڈسٹری دن بہ دن پھلتی پھولتی جا رہی ہے۔۔ نئے پروڈکشن ہاوسز نئے اداکار قلمکار بہت لوگوں کا رزق بھی اس سے جڑا ہے ۔
لیکن قابل بحث بات یہ ہے آخر یہ ڈرامے معاشرے میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟؟ معاشرے کو تعمیری ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں یا اسی معاشرے کے اخلاقی و ثقافتی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں ۔۔ آج تھوڑی سی نظر اس طرف بھی ڈالیں گے۔
سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں ڈرامہ نگاری کے لیے منتخب ہونے والے موضوعات پر۔ تو آج کل بننے والے ڈرامے کے موضوعات اس قدر عجیب ہیں جن کا ہمارے عام معاشرے میں تصور بھی محال لگتا ہے مگر یہی موضوعات ڈرامے کے نام پر اس قدر تسلسل کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد تک دیکھنے والوں کے لیے عام سی بات ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ طرز زندگی بننے لگتی ہے۔۔
پچھلی دہائی میں بھارتی ڈرامہ انڈسٹری سے متاثر ہو کر بننے والا سارا مواد ساس بہو کے جھگڑے اور سیاست پر مشتمل تھا جس کو یہ کہہ کر دکھایا جاتا کہ یہی تو ہر گھر کی کہانی ہے ۔۔ جب ان سب سے آگے بڑھے تو موضوعات اصلاحی طرف جانے کی بجائے مزید اخلاقی تنزلی کی طرف جانے لگے۔ محبت ، افیئرز ، گھر سے بھاگ کر محبت کی شادی ماں باپ کی عزت پر دو دن کی محبت کو ترجیح دینے والے موضوعات چنے جانے لگے ۔۔
25 اقساط میں یہی کچھ دکھایا جانے لگا کس طرح ماں باپ سے بغاوت کرکے اپنی محبت کو حاصل کیا جائے اور آخری ایک قسط میں اسکا برا انجام دکھایا جاتا۔۔۔
وقت کی رفتار تھوڑی اور آگے بڑھی تو معاملہ نازک رشتوں کے ساتھ معاشقے تک آگیا ۔۔ سالی کے ساتھ عشق، بھابھی کے ساتھ عشق، بہنوئی کی محبت میں بہن کا گھر اجاڑنا۔۔ اس موضوع پر لاتعداد ڈرامے لکھے گئے اور بہترین کاسٹ کے ساتھ ایسے ڈرامے معاشرے میں آن ایئرکیے گئے۔۔
یہ تو وہ موضوعات تھے جو موجودہ ڈرامہ انڈسٹری نے منتخب کیے نسل نو کی تربیت اور معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے۔
اب بات کرتے ہیں پروڈکشن کی جہاں ان موضوعات کو ڈرامے کی صورت دی گئی یہاں آکر معاملات اور بھی بگڑے نظر آتے ہیں۔۔ معاشرے کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے اس کا حقیقی دنیا سے محض پانچ فیصد تعلق ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے کے 95 فیصد عوام کو 5 فیصد عوام کے حالات دکھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے مثال لے لیں ڈرامے میں دکھائی جانے والی امیر طبقہ پاکستا کے کتنے فیصد پر مشتمل ہے؟؟
کتنے فیصد طبقہ ایسا لباس و رہن سہن رکھتا ہے؟؟؟؟
یہ سب ایک ڈھکوسلہ بنا دیا گیا ہے ۔
یہ ڈرامے معاشرے میں اثرانداز ہو رہے ہیں معاشرہ اپنے طرز زندگی بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی مثبت ہرگز نہیں آرہی۔
بگڑتے معاشرے میں ڈرامہ انڈسٹری کا کردار۔۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

