اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف کیساتھ مذاکراتی عمل کو مذاق رات قرار دے دیا اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ہمیں کوئی پیغام نہیں ملا،پی ٹی آئی حکومت کو بتائے کہ ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، اسپیکر کے ذریعے مذاکرات کا عمل شروع ہونا چاہیے، پی ٹی آئی پہلے رابطہ کرے گی اس کے بعد ہم کوئی جواب دینے کی پوزیشن میں ہونگے،جن حالات میں پی ٹی آئی والے مذاکرات کی بات کررہے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ 26 نومبر سے پہلے وہ کس زبان میں کررہے تھے، ابھی بھی تحریک انصاف کی زبان کی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، مذاکرات کرنے ہوں تو زبان کو خاموش اور لہجے کو نرم رکھنا پڑتا ہے، حکومت سے مذاکرات کا آغاز بانی پی ٹی آئی کو کرنا چاہیے، بانی پی ٹی آئی کے علاہ تحریک انصاف میں کسی کی حیثیت ہی نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک آواز ہے جو بانی پی ٹی آئی کی ہے، باقی جتنے رہنما ہیں وہ سب بانی پی ٹی آئی سے ہی ہدایت لیتے ہیں، جب تک بانی پی ٹی آئی کا واضح میسج نہیں آئیگا مذاکرات نہیں ہوسکتے۔سول نافرمانی کی تحریک کو نان اسٹارٹر قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دلیہ اور کارن فلیکس کی طرح بانی پی ٹی آئی بھی فوجی پراڈکٹ ہے، بعض اوقات پراڈکٹ اپنی اوقات بھول جاتی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکا سے ہمارا گہرا تعلق ہے، امریکا سے تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، ہمارے ملک میں کیا ہونا چاہیے کیا نہیں اس کا ہمیں بہتر پتہ ہے، اپنے مفادات کا تحفظ ہم نے کرنا ہے، امریکا یا کسی اور ملک کو نہیں پتہ، ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ ہمارے فائدے میں کیا ہے اور نقصان میں کیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے مالی ادارے ہیں جن کی امریکا وقتا فوقتا مدد کرتا ہے، اگر امریکا ہم سے ناراض ہوتا توکیا آئی ایم ایف کا پروگرام ہمیں مل سکتا تھا؟۔افغانستان کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجودہ حکمرانوں سے ہماری سلام دعا 70کی دہائی سے ہے، ہمارا افغانستان سے صرف ایک ہی اختلاف ہے، ہمارا اختلاف یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین ٹی ٹی پی استعمال نہ کرے، اس مسئلے پر ہم باربار افغان حکومت کو اپروچ کر رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا اور افغانستان کا بھائی چارہ ہے وہ دوبارہ تعلقات کی بحالی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ بہت جلد چیزیں نارمل ہونا شروع ہوجائیں گی۔
