تحریر امبرین علی
ماحولیاتی تبدیلیاں اسوقت دنیا بھر کی طرح پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں ۔اور اگر اسوقت بات کریں پاکستان کی تو اسوقت پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کے باوجود خاصا جگمگا رہا ہے ۔شنگھائی کانفرنس کے بہانے یوں لگتا ہے جیسے کہ اسلام آباد نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر لیا ہو ۔شنگھائی کانفرنس سے کچھ روز قبل ہی سی ڈی اے نے شہر کی شاہراؤں کو سنوارنے کا کام شروع کر دیا تھا ۔ایکسپریس وے جو کہ اس شہر کی مصروف ترین شاہراہ ہے اس پر بھی فیض آباد کے مقام پر رنگ و روغن کیا گیا ،اور ٹوٹی پھوٹی سڑک کی مرمت کی گئی۔
ایکسپریس وے سے فیض آباد کراس کر کے آگے ہائی وے پر جائیں تو وہاں بھی سی ڈی اے نے گرین بیلٹس کو سجایا لائٹس لگانے کے ساتھ ساتھ شجرکاری بھی گئی ۔جیسے جیسے آگے جائیں تو سی ڈی اے عملے نے شاہراؤں کی خوب صفائی ستھرائی کی اور ایسا شائد پہلی بار ہوا کہ اتنی لگن اور تفصیل سے شہر کی صفائی پر توجہ دی گئی ہو ۔اسلام آباد کی سڑکوں اور پلوں کو اپ گریڈ اور خوبصورت بنایا گیا۔اس اقدام کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز بین الاقوامی مہمانوں کا پرتپاک استقبال کرنا ہے۔
اسلام آباد میں مہمانوں کی نقل و حرکت کے تمام روٹس پر برقی قمقمے اور اسکرین لگا دی گئی ہیں۔رات کے وقت شاہراہیں اور عمارتیں چمک دمک رہی ہیں، گرین بیلٹس پر درختوں کی کانٹ چھانٹ اور سبز روشنیاں لگائی گئیں جبکہ پلوں کے نیچے رنگ برنگی ڈرائینگز بنائی گئی ہیں۔ اور خاص طور پر اسلام آباد کی ریڈ زون کا جائزہ لیں جو کہ ویسے بھی اسلام آباد میں سب سے زیادہ خوبصورت اور صاف رہتا ہے ریڈ زون میں واقع پارلیمان کے سامنے پھول ہی پھول نظر آتے ہیں ان مصنوعی پھولوں نے شہر اقتدرا کے حسن میں اضافہ کر دیا ہے اور انھی کے بیچ پھولوں سے ہی بنا ایک مور بھی ہے۔جبکہ پارلیمنٹ کے باہر گول چکر پر پھولوں کے درمیان پھولوں سے تتلی بھی بنائی گئی ہے ۔پوری شاہراہ دستور دیگر ممالک کے جھنڈوں سے گنگنا رہی ہے۔
لیکن اگر بات کریں اسلام آباد کے شہریوں کی تو ان دنوں وہ تمام رونقیں دیکھنے کے لیے گھر سے باہر جا نہیں سکتے کیونکہ شنگھائی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسوقت چائنہ ،بھارت ،ایران سمیت ازبکستان کے وزراء اسلام آباد میں موجود ہیں اور انکی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہریوں کو چھٹی دی گئی ہے تا کہ باہر رش نہ ہو ۔شہری حکومت کے اس اقدام سے نالاں ہیں کہ کیونکر ہمیں محدود کیا گیا مگر دیکھا جائے تو شائد ہماری عوام میں ابھی ماحول کو بچانے کا شعور بیدار نہیں ہوا اور حکومت کو انکو گھروں میں بند رکھنا پڑا تا کہ شہر کی روشنیاں بچی رہیں۔شنگھائی کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔امید کی جارہی ہے کہ ان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بڑے ممالک کی یہ بیٹھک کوئی جامع پلان بنائے گی۔اور مستقبل میں ماحولیاتی خوبصورتی مصنوعی کی بجائے قدرتی ہو گی۔
