جدہ(خالدنواز چیمہ)5جولائی پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن تھا جب ایک فوجی آمر ضیاالحق نے ملک کے پہلے منتخب وزیرآعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا کر ملک کو اندھیروں میں دکھیل دیا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے مرکزی صدر تصور حسین چودھری نے پی پی پی سعودی عرب کے زیر اہتمام 5 جولائی 1977 کے یوم سیاہ کی مناسبت سے ایک احتجاجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں پارٹی عہدیداروںنے بھرپور شرکت کی۔ تصور چودھری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ٹکروں میں بٹی قوم کو متحد کیا اور جمہورینظام کے سائے تلے متحد کیا۔ یہ وہ لیڈر تھا جس نے ملک کو ایک متفقہ آئین دیا، میکرو اکانومی کی بنیادیں رکھیں، ملک کو ایٹمی قوت بنانا اور پاسپورٹ کا آسان حصول جسکی وجہ سے عوام کو بیرون ملک روزگار کے مواقع ملے اور آج تک نو ملین پاکستانی بیرون ملک سے ہر سال 22 سے 26 بلین ڈالر کا زرمبادلہ بھیج کر ملکی معیشتکو سہارا دیے ہوئے ہیںاور یہ سب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی، عوام دوستی اور انکے وژن کی مرہونِ منت ہے۔تصور چوہدری نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو تیسری دنیا کے مظلوم عوام کے ہر دلعزیز راہنما تھے۔ انہوں نے لاھور میں دوسری سربراھی کانفرنس منعقد کر کے پاکستان کو مسلم دنیا کا لیڈر بنا دیا تھا، جس سے سامراجی طاقتیں خوفزدہ تھیں اور انکے آلہ کار آمر ضیاالحق نے تیسری دنیا کے اس عظیم لیڈر شہید ذولفقار علی بھٹو کو ایک سازش کے ذریعہ اقتدار سے ہٹا کر ملک میں مذہب کے نام پر جھوٹ اور منافقت کو رائج کیا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ۔ آمر ضیاالحق نے پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی قوت توڑنے کے لیے فرقہ ورانہ اور لسانی گروہوں کی سرپرستی کی اور اپنے سیاسی مخالفین پیپلز پارٹی کے بے گناہ لوگوں کو موت کی سزا اور سرِعام کوڑے مارنے کی سزائیں دیں مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور انکے پیروکاروں نے تختہ دار کو تو قبول کیا مگر آمر کے آگے سر جھکانے سے انکاری رہے ، ملکی بقا اور عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے اپنی جانیں اس ملک پر نچھاور کرنے کو ترجیح دی۔ تصور چوہدری نے کہا کہ آمر ضیاالحق کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی جس نے ضمیر فروشوں کو سیاست کا حصہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کسی ڈکٹیٹر کا کو نام لیوا نہیں ہے مگر بھٹو کل بھی زندہ تھا ، آج بھی زندہ ہے اور کل بھی زندہ رھے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک جاوید حسین، نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملک کی سلامتی، بقا اور جمہوریتکے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ میاں الطاف حسین ،آفتاب ترابی، ملک الیاس اعوان ، راجہ اعجاز حسین جنجوعہ ، ذمرد خان سیفی ملک تکاثر عباس، اکرام اللہ کوھلی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ آج بھی آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا شہید ذولفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو کے افکار اور نظرئیے کے مطابق ملک میں حقیقی جمہوریت کے حصول کے لیے غیر جمہوری قوتوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ آخر میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور شہید بھٹو اور دوسرے شہدا کے لئیے انکے بلندی درجات کی دعا کی۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ٹکروں میں بٹی قوم کو متحد کیا ،تصور حسین چودھری
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

