اسلام آباد،وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی وقار، خودمختاری اورسالمیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، افغانی ہمارے بھائی ہیں،امریکہ کوہوائی اڈے نہیں دیں گے ،پاکستانی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، ماضی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکہ کا ساتھ دے کر ملک وقوم کی تذلیل کی گئی ،امریکی ڈرون حملے ہماری خودمختاری پر حملہ تھے ،کیا برطانیہ اپنے ملک میں30 سال سے بیٹھے ایک دہشت گرد پر حملے کیلئے ہمیں اجازت دے گا؟پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ،ہندوستان سے اس وقت تک تعلقات بحال نہیں ہوں گے جب تک مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5اگست 2019کے فیصلے کو واپس نہ لے،وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے علاوہ کوئی تجویز ہے تو وہ ہمیں دے، ہم چاہتے ہیں کہ ا یسا الیکشن ہوجس کے نتائج ہارنے والے بھی تسلیم کریں ،اچھا بجٹ پیش کرنے پروزیرخزانہ اوران کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،زرعی شعبے میں ٹیکسز پر ایک ارب روپے کی چھوٹ دی ہے،کسان کارڈ کے ذریعہ کسانوں کی براہ راست مدد کریں گے،ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں،پاکستانی خیرات دیتے ہیں ٹیکس نہیں دیتے ،ایف بی آر کو آٹو میشن پر لارہے ہیں ،ٹیکس دینے سے ہی خوشحالی آئے گی ،اب ٹیکس فراڈ کا مطلب جیل ہوگا ،وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی ٹیکس نہ دینے والوں کو گرفتار کراسکے گی ۔
بدھ کو وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے اختتام سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 70 کے بعد جتنے انتخابات ہوئے وہ متنازعہ رہے،ہم نے الیکشن اصلاحات تجویز کی ہیں،میں نے اکیس سال کرکٹ کھیلی ہے،پاکستان وہ ملک ہے جس نے کرکٹ کی تاریخ میں نیوٹرل امپائر متعارف کروائے،میں اپوزیشن کو درخواست کرتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ انتخابات پر کوئی اعتراض نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے انتخابات پر اعتراض کیئے لیکن ثبوت نہیں دیئے،2013کے انتخابات پر جوڈیشل کمیشن کی فائنڈنگ تھیں،دھاندلی روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین،اگر اپوزیشن کے پاس الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے علاوہ کوئی تجویز ہے تو وہ دے۔وزیراعظم نے کہا کہ شوکت ترین آپ کو اور آپ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،یہ حکومت اور اپوزیشن کا معاملہ نہیں یہ پاکستان میں جمہوریت کا معاملہ ہے ۔عمران خان نے کہا کہ ایسے الیکشن ہونے چائیں جن کے نتائج ہارنے والے بھی تسلیم کریں ،کرکٹ میں نیوٹرل امپائر لے کر آیا آج ہارنے والے بھی امپائر کے فیصلے مانے جارہے ہیں ،ٹرمپ نے دھاندلی کا الزام لگایا تو اس سے ثبوت مانگے گئے وہ نہ دے سکا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 2013کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا تو ثبوت بھی دیئے ،جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ دیا کہ الیکشن میں بے ضابطگیاں ہوئیں ،اگراب بھی اپوزیشن کے پاس کوئی الیکشن شفاف کرانے کی تجاویز ہیں تو پیش کریں ،ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخاب چاہتے ہیں تاکہ بٹن دبے اور فوری نتیجہ آجائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے الیکشن اصلاحات نہ کیں تو پھر دھاندلی کے الزامات لگتے رہیں گے ،اگر ایک گھر مقروض ہو جاتاہے تو وہ کیا کرتا ہے،یہی کہ خرچے کم کرتاہے اور آمدنی بڑھاتا ہے،جب خرچے کم کرتا ہے تو رہنے والوں کو مشکل ہوتا ہے ،مشکل فیصلوں سے عوام کو بڑی تکلیف ہوئی_ ابھی لوگ مشکل میں ہیں،اردگان جب آئے تو ترکی قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا انھوں نے بھی مشکل فیصلے لیے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈالر کتنے آرہے ہیں اور باہر کتنے جارہے ہیں یہ ہوتے ہیں گردشی قرضے۔ہماری نئی ٹیم تھی ہمارے لئے مشکل صورتحال تھی ۔اپنے گھر کے خرچ کم کریں گے اور آمدن بڑھائیں گے تو مشکل کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جو بھی گھر اس مشکل میں ہوتا ہے اسے ایسے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں ،ہمیں بھی ایسے ہی مشکل فیصلے کرنا تھا اسی وجہ سے عوام کو بھی مشکلات ہوئیں اور ہیں ،ترکی بھی طیب اردوغان کے وقت مشکل وقت سے گزرے اور آج ان کی صورتحال بہتر ہے ،ایک طرف اکنامک چیلنج تھا ، ہم دوست ملکوں کے پاس گئے ،یو اے ای، سعودی عرب اور چین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں ڈیفالٹ سے بچایا ،ڈیفالٹ کا براہ راست اثر کرنسی پر پڑتا ہے اور اس وجہ سے مہنگائی و بے روزگاری بڑھتی ہے ،ہماری کوشش تھی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں کیونکہ اس کی شرائط سخت تھیں ،آخر کوئی چارہ نہیں تھا تو ہمیں آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑا ،ابھی اسی سے نکل رہے تھے کہ پھر کورونا آگیا ۔وزیراعظم نے این سی او سی سمیت اسد عمر اور ان کی ٹیم کو بھی مبارک باد پیش کی اورپاک آرمی، ڈاکٹر فیصل سمیت دیگر سب کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایران، ہندوستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کی صورتحال دیکھیں تو پاکستان خوش قسمت ہے ،ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس صورت حال میں اللہ نے ہمیں اس آزمائش سے بچایا ہے ،اللہ غریب کی آواز سنتا ہے، ہم اس لیے بچے کیونکہ ہم نے سمارٹ لاک ڈان لگایا ،لاک ڈاون سے غریب طبقہ پس جاتا ہے، امریکہ جیسے ملک میں بھی غربت بڑھ گئی ،اپوزیشن کی طرف سے بھی بہت دبائو تھا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے ہماری مدد کی اور ہمیں ڈیفالٹ سے بچایا،این سی او سی، اسد عمر ، ڈاکٹر فیصل اور انکی ٹیم اور آرمی اور اسکی انٹیلی جنس نے ہماری بہت مدد کی،کرونا کے مقابلے لیے میں پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،اللہ تعالی نے ہمیں بچا لیا،شائد ہم اسلیے بھی بچے اور اللہ نے مدد کی کہ ہم نے فیصلہ کیاکہ پورا لاک ڈاون نہیں لگائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے مزدوروں کو۔دیکھ کر سمارٹ لاک ڈاون، تعمیراتی، ایکسپورٹ اور زرعی شعبے کو جلد کھولا ،ہم نے سمال انڈسٹری کی مدد کی اور احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 50 لاکھ خاندانوں کو پیسے دیئے ،اس وجہ سے ہم اس مشکل صورتحال سے نکلے ،ایک اور چیلنج دیہاتوں کے اندر تھا کہ وہاں ٹڈی دل نے حملہ کردیا ،اس حوالے سے فخر امام نے اقدام اٹھائے اور ہم مشکل سے نکلے ،اس وجہ سے زرعی شعبے میں ریکارڈ پیدوار ہوئی،ہم نے کسان کو وقت پر پیسہ دینے کی پالیسی اپنائی اسی وجہ سے ریکارڈ پیدوار ہوئی ،اگر زرعی شعبے کو اٹھایا جائے تو سب سے جلد اچھے نتائج آئیں گے ،اس کے بعد ایکسپورٹ انڈسٹری کو اٹھایا اور 17فیصد ایکسپورٹ بڑھ گئیں ،صرف جون میں 2ارب 70کروڑ ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ماہ میں ریکارڈ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعہ کسانوں کی براہ راست مدد کریں گے،زرعی شعبے میں ٹیکسز پر ایک ارب روپے کی چھوٹ دی ہے،ہماری کوشش ہے کہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو بڑھایا جائے،ہم ستر فیصد اپنے چھوٹے کاشتکار کو فوائد دیں گے،کسان مارکیٹس بنائی جائیں گی تاکہ مڈل مین کا کردار ختم ہو،جو کھلا دودھ دستیاب ہے وہ زیادہ تر آلودہ ہے،ہم گائیوں اور بھینسوں کی جینیٹک امپروومنٹ کریں گے،اس کے اثرات ایک سے دو سال میں سامنے آجائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں ویلفیئر ریاست بننا ہوگا جس کے لئے کام کررہے ہیں،کامیابی اللہ نے دینا ہوتی ہے، انسان نے کوشش کرنا ہوتی ہے،سب سے پہلے نچلے اور کمزور طبقے کو اوپر لانا ہوگا،چین نے انتہائی غربت ختم کردی، غریب ترقی کرے گا تو ملک سپر پاور بنے گاانسانیت کا نظام سکینڈینیوین ممالک میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جو غریب کو اوپر لاتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے ،چین نے ستر کروڑ غریب لوگوں کو شرح غربت سے نکالا ہے ،چینی صدر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بنیادی شرح غربت ختم کردی ہے ،پاکستان میں امیر امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ،پاکستان آج 74 سال بعد اسلامی جمہوری پاکستان کی طرف جانا شروع ہوگیا ہے ،ہم چالیس پچاس لاکھ لوگوں کا ڈیٹا تیار کرچکے ہیں ،ان چالیس لاکھ لوگوں کے لئے پروگرام لانے جارہے ہیں ،چھوٹے کسان کو تین لاکھ جبکہ شہروں کے لئے پانچ لاکھ بلاسود قرضے دیں گے ،صحت انصاف کارڈ تین صوبوں میں دینا شروع کیا ہوا ہے ،ہم نے ہر کسی کو ہیلتھ انشورنس دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا خاندانی نظام نہ ہو تو لوگ یہاں بھوکے مریں ،ہمارا خاندانی نظام ہے جو اپنے غریب افراد کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے ،برطانیہ میں بے روزگار کو الائونس دیا جاتا ہے غریب آدمی کو مفت لیگل ایڈ ملتی ہے ،ہم نے پانچ سو ارب روپے کامیاب پاکستان کے لیے رکھا ہے ،اس کا مقصد ہے کہ چالیس سے پچاس فیصد نچلے طبقے کو اس کامیاب پاکستان پروگرام میں لارہے ہیں ،اس میں سود کے بغیر قرض دیا جائے گا ، کسانوں کو تین لاکھ قرض دیا جائیگا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے تمام باسیوں ہم ہیلتھ انشورنس دیں گے ،جب کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو قرض کی وجہ سے سارا گھر غربت میں چلا جاتا ہے ،ترقی یافتہ ملکوں میں ہیلتھ پریمئر دینا پڑتا ہے مگر ہم مفت دے رہے ہیں ،ہیلتھ کارڈ اب کسی بھی اسپتال میں استعمال ہوسکتا ہے ،حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اسپتال بنائے ،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ اوقاف اور متروکہ املاک کی سستی زمینیں اسپتالز کے لئے دیں گے۔عمران خان نے کہا کہ نجی سیکٹر کے لئے طبی آلات پر ٹیکس چھوٹ دیں گے ،ایک فرد کو ایک خاندان میں ہنر دیں گے ،کم لاگت گھروں کی سکیم لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو براہ راست سبسٹڈی دیں گے ،یہ سبسٹڈی آٹا گھی چینی وغیرہ پر ملے گی ،یوٹیلیٹی سٹورز پر ڈیٹا موجود ہوگا،نوے ہزار انڈر گریجویٹ طلبا کو سکالرسپش دیں گے ،پناہ گاہوں کا پورے ملک میں جال بچھانے جارہے ہیں ، ہمارے نبی حضرت محمد ۖ نے فرمایا ان کی بیٹی بھی اگرچوری کرے گی تو سزا ملے گی ،قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا ،شیرشاہ نے سب سے پہلے بڑے بڑے ڈاکووں کو فارغ کیا تو امن آگیا ،امن آیا تو تاجر آئے سرمایہ آیا اور خوشحالی آگئی ،جو ممالک خوشحالی رکھتے ہیں وہاں انصاف ہے۔عمران خان نے کہا کہ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو براہ راست سبسٹڈی دیں گے ،یہ سبسٹڈی آٹا گھی چینی وغیرہ پر ملے گی ،یوٹیلیٹی سٹورز پر ڈیٹا موجود ہوگا،90ہزار انڈر گریجویٹ طلبا کو سکالرسپش دیں گے ،پناہ گاہوں کا پورے ملک میں جال بچھانے جارہے ہیں،قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا ،جو ممالک خوشحالی رکھتے ہیں وہاں انصاف ہے۔انہوں نے کہا کہ تھانے دار کی چوری سے بڑا فرق نہیں پڑتا ،فرق اس وقت پڑتا ہے جب وزیر اعظم چوری کرتا ہے ،سوچیں کل نیب کے لوگ سندھ میں ایک سیاستدان کو پکڑنے گئے لوگوں نے انہیں مارا پیٹا ،پہلی مرتبہ نیب نے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے تو شور مچ گیا ہے ،پہلے نیب کچھ نہیں کرتا تھا تو کوئی شور نہیں ہوتا تھا ،لاہور میں ایک بڑے قبضہ گروپ سے قبضہ چھڑوایا تو انتقامی کاروائی کا الزام لگا دیا گیا ،اگر اس کے پاس کاغذات تھے تو عدالت میں جاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو ذلیل کیا دنیا نے ہمیں ذلیل نہیں کیا ،مائیک مولن نے پبلک ہیئرنگ میں کہا امریکہ ڈرون حکومت پاکستان کی اجازت سے کررہا ہے ،حکومت پاکستان اپنے عوام سے جھوٹ بولتی ہے ،اسامہ بن لادن پر ایبٹ آباد میں امریکہ نے حملہ کیا تو بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کو طعنے دئیے گئے ، ،امریکہ کو افغانستان میں شکست ہوئی وہ بھی ہم پر ڈال دیا گیا ،ہم نے فیصلہ ہے کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،افغانی ہمارے بھائی ہیں ،ہم افغانیوں کو امریکہ سے بہتر جانتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی خود دار حکومت ہوتی تو ادھر بھی خون نہ ہوتا ادھر بھی نہ ہوتا ،امریکہ اب پاکستان کو مجبور کررہا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات پر لائے ،ہم افغانستان میں کوئی اسٹرٹیجک گہرائی نہیں چاہتے ،ہم افغان عوام کے فیصلے کا احترام کریں گے ،اب ہم امریکہ کے ساتھ امن کے ساتھی تو ہوسکتے ہیں جنگ کے نہیں۔کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد سے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا ہوگئی ، کشمیریوں کے جذبے کو پوری قوم کی طرف سے سلام پیش کرتے ہیں ،سارا پاکستان کشمیری ماؤوں ، بہنوں اور بچوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے اس وقت تک تعلقات بحال نہیں ہوں گے جب تک 5اگست کے فیصلے کو واپس نہ لیا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانیوں جتنے کھلے دل کے لوگ کہیں نہیں ،پاکستانی خیرات دیتے ٹیکس نہیں دیتے ،صرف بائیس فیصدلوگ ٹیکس دیتے ہیں ،ارکان پارلیمنٹ پانچ سوارب روپے کے ترقیاتی منصوبے لیکر آگئے ،بتائیں پیسے نہیں ہیں تو کہاں سے منصوبے بنائیں ،ہم ایف بی آر کا خوف دور کریں گے ،ایف بی آر کو آٹو میشن پر لارہے ہیں ،پاکستانیوں خوشحالی چاہتے ہوتو ٹیکس دینا ہوگا ،اب ٹیکس فراڈ کا مطلب جیل ہوگا ،وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی ٹیکس نہ دینے والوں کو گرفتار کراسکے گی ۔
