اسلام آباد(آئی پی ایس)وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان سے پاکستانی طلبہ کو واپس لانے کیلئے خصوصی طیارے کا انتظام کرنے کی ہدایت کر دی۔
تفصیلات کے مطابق بشکیک سے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس لانے کیلئے خصوصی طیارہ آج شام روانہ ہوگا، خصوصی طیارہ رات کو 130 پاکستانی طلبہ کو لے کر پاکستان پہنچے گا، وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی طیارے کے تمام تر اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔
وزیراعظم نے رابطے میں کرغزستان میں موجود تمام پاکستانی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ زخمی پاکستانی طلبا کو ترجیحی بنیادوں پر وطن لایا جائے، خاندان کے ساتھ مقیم طلبہ کی بھی وطن واپسی کا انتظام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔
اس موقع پر پاکستانی سفیر نے وزیراعظم کو کرغز نائب وزیر خارجہ آیواز بیک عطاخانوف سے ہوئی ملاقات بارے آگاہ کیا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ کرغز حکومت نے بتایا ہے کہ حالات پر مکمل طور قابو پا لیا گیا ہے، کل رات اور آج تشدد کا کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا، سکیورٹی بڑھا دی گئی پاکستانی اور دیگر غیر ملکی طلبہ بالکل محفوظ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود اگر کوئی پاکستانی طالب علم وطن واپس آنا چاہتا ہے تو اسے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ پاکستانی طلباء آج دو کمرشل پروازوں کے ذریعے بھی کرغزستان سے پاکستان پہنچیں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور امیر مقام کا دورہ کرغزستان اچانک ملتوی
اسلام آباد(آئی پی ایس) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر امیر مقام کا دورہ کرغزستان اچانک ملتوی ہو گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پاکستان طالبعلموں پر تشدد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور طلباء کی وطن واپسی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور امیر مقام کو فوری طور پر بشکیک پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔
اسحاق ڈار اور امیر مقام نے آج لاہور سے بشکیک کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم اچانک دونوں کا دورہ کرغزستان ملتوی ہو گیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور امیر مقام کچھ دیر بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے۔
نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر نے کرغزستان میں پاکستانی طلباء اور متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کرنی تھیں اور کرغز حکام کے ساتھ پاکستانی طلباء کی سکیورٹی اور زخمیوں کو علاج و معالجے کی سہولیات سے متعلق تبادلہ خیال بھی کرنا تھا۔
یاد رہے کہ کرغزستان میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں پاکستانی طلبہ و طالبات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث وہاں موجود پاکستانی طالبعلم خوف و ہراس کا شکار ہیں اور چھپ کر رہنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ روز 30 طالبعلموں سمیت 140 پاکستانیوں کو لیکر غیر ملکی پرواز بشکیک سے لاہور پہنچی تھی جبکہ آج بھی ایک پرواز نے پاکستانی طالبعلموں کو لیکر آنا ہے۔
