اسلام آباد،دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے باعث ان میں عدم تحفظ کا رجحان پایا جاتا ہے، اور دنیا بھر میں مختلف این جی اوز ، فلاحی تنظیمیں اس حوالے سے واقعات کی روک تھام کیلئے آگاہی پروگرام بھی منعقد کرتی رہتی ہیں ۔تاہم وزیراعظم عمران خان نے پہلے بھی جنسی زیادتی سے متعلق ایک بیان دیا تھا اور اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کی وجہ فحاشی کو قرار دیا تھا اور اس پر کافی تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے ایک اور نجی چینل کو انٹرویو دیا ہے ، اور جنسی زیادتی سے متعلق ایک سوال وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر خواتین کم لباس پہنیں گی تو اسکا اثر مردوں پر تو ہوگا۔ جب تک وہ روبوٹ نہ ہوں ، اور اسکو انہوں نے عام فہم قرار دیا۔اپنے سابقہ بیان سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ترغیب سے باز رکھنے کیلئے پردے پر زور دیاتھا۔وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ اگر آپ ترغیب معاشرے میں بڑھائیں گے تو اسکے اثرات تو مرتبہ ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں نائٹ کلبز اور ڈسکوز نہیں ہیں اور یہ مختلف معاشرہ ہے۔وزیراعظم کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا ایک طوفان آگیااور ان کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم بعض ٹوئٹر صارفین وزیراعظم عمران خان کے بیان کے حق میں بات کرتے ہوئے بھی نظر آئے اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے موقف کی تائید بھی کی ۔
مختصر لباس سے متعلق وزیراعظم کا بیان ، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
