ہومپاکستاننیب نے شارک مچھلیوں اور مگرمچھوں کو پکڑا ہے،چیئرمین نیب

نیب نے شارک مچھلیوں اور مگرمچھوں کو پکڑا ہے،چیئرمین نیب

لاہور،قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب انسان دوست ادارہ ہے، کہا جاتا ہے پاکستان اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب کا خوف ہوتا تو کیا ترسیلات زر میں اضافہ ہوتا، ایک سرمایہ کار بتا دیں جس کا راستہ نیب نے روکا ہو۔انہوں نے کہا کہ صبح نیب کی پیشی بھگتنے والا شام میں تنقید کر رہا ہوتا ہے، عوام کی دعا اور شاباش کے بعد نیب کو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ایک صاحب نے کہا کہ نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری رک گئی ہے، نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں، آج ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے ،کوئی یہ نہیں کہہ سکتا نیب نے ملک کیخلاف اقدامات کیے،نیب کا ادارہ عوام کی بہتری کیلئے بنایا گیا ہے ۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے شارک مچھلیوں اور مگرمچھوں کو پکڑا ہے، تین سال میں 533 ارب کی ریکوری ہوئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ نیب جس طرح کام کر رہا ہے اسی طرح کام کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نیب کی پیشی بھگت کر تقریر میں جو چاہے کہہ رہے ہوتے ہیں، آپ کو حقیقت کا علم ہوتا نہیں اور تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ حقائق اور قانون سے واقفیت ضروری ہے۔چیئرمین نیب کے بقول تنقید کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، تنقید اصول سے کریں گے تو نیب کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔ تنقید برائے تعمیر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آپ روشن پہلو پر بات نہیں کر سکتے تو تاریک پہلو پر بھی بات نہ کریں۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ نیب سرمایہ کاری میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں،یہ کہنا سراسر زیادتی ہے نیب کی وجہ سے سرمایہ کار خوف میں مبتلا ہیں۔ نیب کا خوف ہوتا تو کیا ترسیلات زر میں اضافہ ہوتا؟انہوں نے کہا کہ آپ کو اصلی بزنس مین اور ڈکیت مین فرق معلوم ہونا چاہیے، بزنس کمیونٹی کی ہتک اور تضحیک کبھی مقصود نہیں رہی۔ بزنس مین ملکی معیشت میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔چیئرمین نیب نے بتایا کہ بزنس کمیونٹی کے تمام کیسز ایف بی آر کو بھیج چکے ہیں، اگر کوئی بزنس مین سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف زیادتی ہوئی تو نیب کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ اب کوئی ڈبل شاہ پیدا نہ ہو، ڈبل شاہ کو سزا نہ ہوتی تو ہر محلے میں ڈبل شاہ پیدا ہو چکا ہوتا۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ لاکھ مرتبہ نیب قوانین میں ترمیم کریں، سپریم کورٹ ایک ایک لفظ نیب آرڈینینس دیکھ چکا ہے۔ پلی بارگین ختم کر کے آپ کیا طریقہ کار اختیار کریں گے؟انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں، نیب جس طرح کام کر رہا ہے اسی طرح کام کرتا رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔