ہومپاکستانوفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی ڈہرکی ٹرین حادثہ پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی ڈہرکی ٹرین حادثہ پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

رحیم یار خان،وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی ڈہرکی میں ہونے والے ٹرین حادثہ پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے زخمیوں کی عیادت کے بعد شیخ زید ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے، ریلوے حکام کی غفلت سے حادثے پہ حادثہ ہو رہا ہے، ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے، اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ کرپشن کے خلاف جاری جہاد کو منطقی انجام تک پہنچاوں گا، عملے کی بجائے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی ہو گی ، معصوم بچیوں کی لاشیں دیکھ کر اپنے پوتے اور پوتیاں یاد آگئیں، اس دوران وفاقی وزیر ریلوے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔وفاقی وزیر اعظم سواتی نے مزید کہا کل تک رپورٹ مرتب اور ذمہ داروں کا تعین ہو گا، وزیراعظم کو حقائق سے آگاہ کر دیا ہے، سکھر ڈویژن کا ریلوے ٹریک بوسیدہ ہو چکا ہے، جائے حادثے پر رات بھر رہا ہوں، ریسکیو عملے اور ریلوے کے مزدوروں کو سلام پیش کرتا ہوں، المناک حادثے میں ابتک 58 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 23 افراد شیخ زید ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔اعظم سواتی نے کہا حادثہ لاپرواہی ہے یا حادثہ ہم اسکے ذمہ دار ہیں، سگنل سسٹم کی ناکامی اور بروقت اقدام نہ اٹھانے کے باعث حادثہ سنگین ہوا، سر سید ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک کا استعمال کیا لیکن اس وقت تک تاخیر ہو چکی تھی۔ سگنل سسٹم پر قوم کا 20 ارب روپیہ خرچ ہو چکا ہے جو ابھی تک مکمل فعال نہیں ہو سکا۔ اسی لئے اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے زریعے چلا رہے ہیں ، 1971 کا بنا ہوا ٹریک 30 سال بعد تبدیل ہونا تھا جو نا ہوا ، زمہ دار کون ہے، ٹریک کو خود تیار کروں یا ایم ایل ون کا انتظار کروں، وزیر اعظم اور اسد عمر کو بتا دیا ہے، ایم ایل ون کی طرف جانا ہے یا اپنے وسائل سے فوری ٹریک کو تبدیل کرنا ہے، فیصلہ کل ہو گا۔دوسری جانب کہ ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس کے تصادم میں جاں بحق افراد کی تعداد 62 ہو گئی،100 سے زیادہ زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ 47 میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔