اسلام آباد،نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ آنے والے بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے ،مزدور کی کم از کم تنخواہ پچاس ہزار روپے مقرر کی جائے ،حکومتوں کے اعلان کردہ 20 ہزار بہت کم ہیں۔
ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں اس تنخواہ سے ایک آدمی کا گزر بسر ممکن نہیں، اگر ممکن ہے تو کوئی ماہر معیشت اس رقم میں پانچ افراد کے ایک گھرانے کا بجٹ بنا کر دکھا دے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس میں گزر بسر ممکن ہے تو پھر مدینہ کی اسلامی ریاست کے نعرے پر عمل کرے اور صدر، وزیراعظم،وزرا،ججوں،جرنیلوں اور بیوروکریٹ کی بھی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار کردی جائے، مزدوروں نے اگر پیٹ پر دو پتھر باندھے ہیں تو حکمران بھی ایک پتھر باندھ کر دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ ملک سے ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے،مزدوروں بالخصوص دیہاڑی دار مزدوروں رجسٹریشن کی جائے اور تمام مزدوروں کو لیبر قوانین اور سماجی تحفظ (سوشل سیکورٹی،ای او ب آئی ورکرز ویلفیئر فنڈ)کے دائرہ میں لایا جائے ،سرکاری ملازمین کو 25 فیصد اضافے کی ادائیگی میں رکاوٹیں دور کی جائیں ایڈہاک الائونسز کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنایا جائے، فرجہ چہارم کے ملازمین کو سکیل نمبر 7 دیا جائے اور ایک تا22 سکیلوں پر نظر ثانی کی جائے اور انہیں بتدریج ایک تا7 کیا جائے تاکہ انسانوں کے اندر اس تفاوت کو ختم کیا جاسکے۔
