ہومپاکستانآج ڈالر کی قدر میں کمی ڈار کی پالیسی کی وجہ سے ہے: اسحاق ڈار کا سینیٹ میں بیان

آج ڈالر کی قدر میں کمی ڈار کی پالیسی کی وجہ سے ہے: اسحاق ڈار کا سینیٹ میں بیان

اسلام آباد:سابق وزیر خزانہ اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے مجھے کرنسی ڈی ویلیوایشن کا دشمن سمجھتے ہیں، آج ڈالر کی قدر میں کمی اسحاق ڈار کی پالیسی کی وجہ سے ہے۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ روپے کی قدر میں کمی کو معاشی برائیوں کی ماں کہتا ہوں، کیریکٹرز ہیں جواپنیمفادکیلییملک کوکھربوں کانقصان پہنچاتے ہیں، 1999 میں ایک دن ڈالر کی قیمت 69 روپے پر پہنچ گئی، اس وقت ملک پر معاشی پابندیاں تھیں، کریک ڈان کیا تو ڈالر 52 پر آگیا۔

انہوں نے کہا کہ 2014 سے چار سال تک ملکی کرنسی مستحکم رہی، سینٹرل بینک کسی حد تک مداخلت کرتا ہے، پی ٹی آئی حکومت میں ڈالرکی قدر میں کمی کیلئے اسٹیٹ بینک نے زیادہ مداخلت کی، روپے کی قدر میں کمی سوٹ ہی نہیں کرتی، ہم 91 فیصد معیشت تباہ کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مالیاتی ادارے کی طرف سے مجھے روپے کی قدر میں کمی کا دشمن سمجھا جاتا ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مالیاتی ادارے کے مشورے پر ڈالر چھوڑا تو دیکھیں کیا حال ہوا، ہماریقرض میں اس سیکتنااضافہ ہو گیا، روپے کی قدر میں کمی کا حل ہمیں مل کر سوچنا چاہیے، ان پالیسیوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ دسمبر 2017 تک پاکستانی روپیہ ایشیا کی مستحکم ترین کرنسی تھی، نوازشریف نے ڈالر 104 روپے اور شاہد خاقان عباسی نے 124 روپے پر چھوڑا تھا، ہم کو مصنوعی طریقے سے ڈالر قابو کرنے کا طعنہ دینے والے آج نظر نہیں آتے؟ انہوں نے کہاکہ 16 ماہ معیشت کو ٹھیک کرنے کا معاملہ نہیں تھا، اصل ایکس چینج ریٹ آج بھی 244 روپے ہے، معیشت کی تباہی کی سب سیبڑی وجہ روپیکی قدرمیں کمی ہے، آج ڈالرکی قدرمیں کمی اسحاق ڈارکی پالیسی کی وجہ سے ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔