اسلام آباد،پاکستان نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ اجتماعی اقدام کی طاقت ہے اور یہ ہر شخص اور قوم کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی فلسطین میں امن کی جانب پہلا قدم ہو۔جمعرات کو وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے فلسطین پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ قوموں کی زندگی میں ایسے مرحلے آتے ہیں جب ان کے فیصلے آنے والی نسلیں یاد رکھتی ہیں،آج ایک ایسا ہی موقع اور مرحلہ ہمیں درپیش ہے،آج ہم جوکرتے ہیں یا نہیں کرتے، سب تاریخ میں لکھا جائے گا،سرائیل اپنے غرور اور تکبراور قانونی کارروائی سے استثنی کی بنافلسطین کے محصور اور مقید لوگوں پر لامتناہی حملوں کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس وقت جب ہم یہاں اظہار خیال کررہے ہیں، فلسطین میں بچوں اور خواتین کو شہید کیاجارہا ہے اور اس کی وجہ بننے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں،اسرائیلی حملوں میں ایک ہفتے کے دوران 250 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ غزہ کے ہر گھر میں اس وقت صف ماتم بچھی ہے اور ہر طرف موت کا سایہ ہے۔ اسرائیلی فضائی حملے ابوحاطب کے خاندان کے ہر فرد کی موت کے ذمہ دارہیں۔ اس خاندان کے شہدامیں دو خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں،ایک لمحے کے لئے اس صورتحال کاتصور کیجئے،غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں ہر گھنٹے میں ایسے بہیمانہ سانحات رونما ہورہے ہیں اور ایسے ہزاروں واقعات ہوچکے ہیں،اب تک 10 ہزار فلسطینی غزہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ پینے کے پانی، خوراک، حفظان صحت اور صحت کی سہولیات تک انہیں محدود نوعیت کی رسائی میسر ہے۔ ہسپتال اور فراہمی آب کے علاوہ نکاسی کی خدمات کا تمام تر انحصار بجلی کی فراہمی پر ہے اور اس ضمن میں ایندھن تقریبا ختم ہوچکا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ ہر لحاظ سے اس وقت اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔ واحد روشنی ان دھماکوں سے ہورہی ہے جو اسرائیل ان پربموں کی صورت برسارہا ہے،یہ ہے فلسطین جہاں اسرائیل پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے بے گناہ فلسطینیوں کو شہید و دہشت زدہ اور میڈیا کی زبان بندی کرنے کے لئے فضائی حملوں میں عمارات کو زمین بوس کررہا ہے،اس ظلم سے اب جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے،فلسطینی عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی انہیں خاموش کرایا جاسکتا ہے۔ ہم اسلامی دنیا کے نمائندے یہاں ان کے حق کی بات کرنے آئے ہیں، آج ہم ان کے لئے بول رہے ہیں۔ یہ خوفناک امر ہے کہ سلامتی کونسل عالمی امن وسلامتی کے قیام کی اپنی بنیادی ذمہ داری انجام دینے کے قابل نہیں، سلامتی کونسل جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ کونسل کو اس کے کام سے روکنے والوں پر بھاری ذمہ د اری عائد ہوتی ہے،ان حالات میں جنرل اسمبلی کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ اس نازک مرحلے پر ہمیں فلسطینی عوام کو مایوس نہیں کرنا۔
پاکستان کا اسرائیل حماس جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
