ہومپاکستانحکومت کا حدیبیہ پیپر ملز کی تفتیش نئے سرے سے شروع کرنیکا فیصلہ،تفتیشی اداروں کو ہدایات جاری

حکومت کا حدیبیہ پیپر ملز کی تفتیش نئے سرے سے شروع کرنیکا فیصلہ،تفتیشی اداروں کو ہدایات جاری

اسلام آباد،وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تفتیش نئے سرے سے شروع کرنے کی بدایات دی جارہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنمائوں کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ملکی تازہ سیاسی صورتحال اور دورہ سعودی عرب پر گفتگو کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ شہبازشریف کی بیرون ملک روانگی سے متعلق عدالتی فیصلے پربھی مشاورت کی گئی جبکہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیے جانے پر غور کیا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 8 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم انہیں ایف آئی نے لاہور ائیرپورٹ پر قطر جانے سے روک دیا تھا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج وزیر اعظم عمران خان کو قانونی ٹیم نے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ٹویٹر پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تفتیش نئے سرے سے شروع کرنے کی بدایات دی جارہی ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے، اس مقدمے میں لیگی صدر شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ ن ، سابق وزیراعظم نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثئیت رکھتے ہیں جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کیلئے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا۔ اس لئے اس کیس کو انجام تک پہنچانا از حد اہم ہے۔واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا جس میں انھوں نے جعلی اکائونٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے اور کہا کہ یہ بیان انہوں نے دبا ئومیں آ کر دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرنس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا جس کے بعد 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں۔اس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز، عباس شریف، شمیم اختر، صبیحہ شہباز، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر فریق ہیں جب کہ اسحاق ڈار کو بطور وعدہ معاف گواہ شامل کیا گیا۔پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔بعد ازاں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی جو کہ اعلی عدلیہ نے 29 اکتوبر 2018 کو سماعت کے بعد مسترد کردی تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔