ہومپاکستانبشیر میمن کے الزامات مسترد،فائز عیسی کے خلاف کیس بنانے کیلئے کبھی نہیں کہا، وزیراعظم

بشیر میمن کے الزامات مسترد،فائز عیسی کے خلاف کیس بنانے کیلئے کبھی نہیں کہا، وزیراعظم

اسلام آباد،وزیراعظم عمران خان نے سا بق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بشیر میمن جو بھی بات کر رہا ہے جھوٹ اور لغو ہے، میں نے کبھی کسی کے بارے میں کیسز بنانیکا نہیں کہا، کابینہ میٹنگ میں ضرور کہا کہ خواجہ آصف کیخلاف تحقیقات ہونی چاہیے ،جہانگیرترین کے معاملے میں انصاف ہوگا، شوگراسکینڈل کی تحقیقات کرنیوالی ٹیم میں تبدیلی نہیں کی گئی ڈاکٹر رضوان کوہٹایا نہیں ابوبکر خدابخش بھی ان کے ساتھ ہوں گے، معاملے میں شہزاداکبر کو بھی سائیڈلائن نہیں کیاگیا، علی ظفردیکھیں گے کہ کہیں کوئی اثرورسوخ تواستعمال نہیں کررہا۔وہ جمعرات کو میڈیا اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوںسے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس فائل کرنے کا کام بشیرمیمن کا تھا ہی نہیں تو ان سے کیوں کہتا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے خلاف کیسز بنانے سے متعلق بھی کبھی نہیں کہا اورخاتون اول کی تصویر کے معاملے میں مریم نواز پر دہشت گردی کا مقدمہ بنانے کا بھی نہیں کہا، بشیر میمن صرف اومنی گروپ کی جے آئی ٹی میں پیش رفت پر بریف کیا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں صرف خواجہ آصف کے اقامے کے معاملے پر تحقیقات کا کہا تھا،ان سے کہا تھا کہ تحقیقات کریں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وزیر خارجہ اور دفاع غیر ملکی اقامہ اور تنخواہ لیتا ہو، خواجہ آصف کیس کی تحقیقات کا فیصلہ کابینہ اجلاس میں بھی کر چکے تھے۔وزیراعظم نے بتایا کہ جہانگیر ترین کے معاملے پر ملنے والے وفد نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا ہے، حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ جہانگیرترین کامعاملہ بیرسٹر علی ظفر دیکھیں گے، وہ دیکھیں گے کہ کہیں جہانگیر ترین کو ناجائز نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا،بیرسٹر علی ظفر معاملے کی رپورٹ مجھے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین کے معاملے کی تحقیقات ضرور ہوں گی،احتساب سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، چاہے پارٹی کے سینیئر رہنماجہانگیرترین ہی کیوں نہ ہوں۔اس حوالے سے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو نہیں ہٹایا گیا،ابوبکر خدا بخش کو شوگر اسکینڈل تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔