کراچی ،این اے 249کراچی میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ ہوئی جس کے بعد آخری اطلاعات تک غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 276 پولنگ اسٹیشنز میں سے 98کے نتائج موصول ہوچکے ہیں۔پیپلزپارٹی کے قادرخان مندوخیل 5601 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ن لیگ کے مفتاح اسماعیل 5155 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ٹی ایل پی کے نذیر احمد 4603 ووٹ لے کر تیسرے، پی ٹی آئی کے امجد آفریدی 3173 ووٹ لے کر چوتھے، پی ایس پی کے مصطفی کمال 3165 ووٹ لے کر پانچویں اور ایم کیوایم کے حافظ محمد مرسلین 2636 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر ہیں۔
این اے 249 پر تحریک انصاف کے امجد اقبال آفریدی ، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل ، پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل، پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال، ایم کیو ایم پاکستان کے حافظ محمد مرسلین سمیت 30 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پولنگ کے دوران حلقے میں کچھ مقامات پرانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی۔ایک پولنگ اسٹیشن پر پریزائڈنگ آفیسر نے دو بجے ہی فارم 45 پر پولنگ ایجنٹس سے دستخط کرالیے۔پی ایس پی کے رہنما حسان صابر کے مطالبے پردستخط شدہ فارم 45 منسوخ کردیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے دوران پولنگ پی ٹی آئی کے 6 ارکان اسمبلی فردوس شمیم نقوی، راجا اظہر، سعید آفریدی، ملک شہزاد اعوان، بلال غفار ،شاہ نواز جدون اورن لیگ کے کھیل داس کوہستانی کو حلقے سے نکل جانے کا حکم دیا۔این اے 249 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔حلقے میں مجموعی ووٹوں کی تعداد تقریبا 3 لاکھ 39 ہزار ہے۔ انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کے 5 ارکانِ اسمبلی کی این اے 249 سے حلقہ بدری کے احکامات جاری کیے گئے۔پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی فردوس شمیم نقوی، راجہ اظہر، سعید آفریدی، بلال غفار اور شاہ نواز جدون حلقے میں موجود تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان اراکینِ اسمبلی کی موجودگی اور الیکشن قوانین کی خلاف ورزی پر سخت نوٹس لیا گیا۔ جس پر انہیں حلقے دے باہر نکال دیا گیا۔ذرائع کے مطابق کم ٹرن آئوٹ کے باعث الیکشن کالعدم ہونے کا بھی خدشہ ہے ،الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو خط لکھا ہے جس میں ضمنی انتخاب کے دوران کم ٹرن آٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ڈالے گئے ووٹ میں پانچ فیصد خواتین ووٹ ہونا بھی ضروری ہے جبکہ 10 فیصدسے کم ووٹرٹرن آوٹ ہونے پرری پولنگ کاقانون موجودہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ این اے 249 میں ٹرن آٹ کم ہے تو گنتی جلدی مکمل ہوجانی چاہیے ، جب تک تمام فارم 45 نہیں مل جاتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔محمد زبیر نے کہا کہ عوام نے ن لیگ کے حق میں ووٹ ڈال دیا ہیاب نتائج کا اعلان ہونا ہے، ہمارے امیدوار مفتاح اسمعیل اور وکیل کو بھی ڈی آراو افس نہیں جانے دیا جارہا ، ہمیں 117 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 ملے گئے ہیں ،117 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے مطابق مفتاح اسمعیل کو 7 ہزار ووٹ ملے ہیں۔مفتاح اسمعیل کا کہنا ہے کہ دو پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 کی کاپی ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نہیں دی گئی، 260 اور 261 پولنگ اسٹیشن پرفارم 45 کی کاپی ایجنٹ کو نہیں دی گئی، دونوں پریزائیڈنگ آفیسر تالا لگاکر چلے گئے۔محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 260 کے پریزائیڈنگ آفیسر کا فون بھی بند ہے ۔
